کراچی کی مرکزی شاہراہیں آج اس وقت بند ہو گئیں جب جماعتِ اسلامی کے کارکنوں نے بجلی کے بھاری بلوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شہر کے مختلف مقامات پر دھرنے دیے۔ شام کے رش کے اوقات میں شروع ہونے والے ان مظاہروں نے شہر کے ٹریفک کے نظام کو مکمل طور پر درہم برہم کر دیا۔
نمائش چورنگی، جو شہر کے مشرقی اور مغربی حصوں کو ملانے والا اہم ترین مرکز ہے، احتجاج کا گڑھ بن گئی۔ دوپہر چار بجے کے بعد ہی مظاہرین نے مرکزی شاہراہ کو بلاک کر دیا، جس کا اثر صدر، شاہراہِ فیصل اور یونیورسٹی روڈ تک محسوس کیا گیا۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور ایمبولینس سمیت عام شہریوں کی گاڑیاں گھنٹوں تک پھنسی رہیں۔
ایک ڈلیوری رائیڈر، احمد خان، جو ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک میں پھنسے ہوئے تھے، نے بتایا کہ "ڈیڑھ گھنٹے سے ایک ہی جگہ کھڑا ہوں۔ میری دیہاڑی ضائع ہو رہی ہے اور واپسی کا کوئی راستہ بھی نہیں بچا۔”
جماعتِ اسلامی کی قیادت کا موقف ہے کہ یہ احتجاج وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف ایک ناگزیر ردِعمل ہے۔ جماعت کے صوبائی امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک بجلی کے بلوں میں ریلیف نہیں دیا جاتا، یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج محض سیاسی نہیں بلکہ عوام کے زندہ رہنے کی جنگ ہے۔
ٹریفک پولیس صورتحال کو قابو کرنے میں ناکام نظر آئی۔ افسران نے گاڑیوں کو تنگ گلیوں کی طرف موڑنے کی کوشش کی، جس سے رہائشی علاقوں میں بھی ٹریفک جام ہو گیا۔ خاص طور پر شہر کے وسط میں واقع بڑے ہسپتالوں تک پہنچنے والے راستے بند ہونے سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود رہی، لیکن حکام نے کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز کیا۔ ایک ٹریفک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اعتراف کیا کہ اگر طاقت کا استعمال کیا جاتا تو شہر کی کشیدہ صورتحال مزید بگڑ سکتی تھی۔
احتجاج کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی نے مطالبات نہ مانے جانے کی صورت میں شہر گیر ہڑتال کی دھمکی بھی دی ہے۔ فی الحال کراچی کی زندگی ایک بار پھر رک گئی ہے، جہاں سیاسی احتجاج کے باعث روزمرہ کا پہیہ جام ہونا ایک معمول بن چکا ہے۔
