پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 5 اگست کو لاہور کے تاریخی مقام مینارِ پاکستان پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے اس تاریخ کے انتخاب نے ملکی سیاسی منظرنامے میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے، جسے حکومتی بیانیے کے سامنے ایک بڑے چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ محض ایک سیاسی اجتماع نہیں ہے۔ مینارِ پاکستان کے تاریخی گراؤنڈ کا انتخاب دراصل پارٹی کا اپنے روایتی قلعے میں واپسی کا عزم ہے۔ کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے باوجود پارٹی قیادت اس جلسے کے ذریعے اپنی عوامی مقبولیت ثابت کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ 5 اگست کی تاریخ کا انتخاب بھی غیر معمولی ہے، جس کے ذریعے پی ٹی آئی کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی اور قومی خودمختاری کے اپنے بیانیے کو مزید تقویت دینا چاہتی ہے۔
پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے منگل کی رات صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم اپنا مقدمہ براہِ راست عوام کی عدالت میں لے جا رہے ہیں۔ انتظامیہ جتنی چاہے رکاوٹیں کھڑی کر لے، عمران خان کی عوامی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔”
دوسری جانب، پارٹی کی صوبائی قیادت قانونی چارہ جوئی کے لیے بھی تیار ہے۔ لاہور کی ضلعی انتظامیہ ماضی میں سیکیورٹی خدشات یا ٹریفک کے مسائل کا جواز بنا کر تحریک انصاف کو جلسوں کی اجازت دینے میں تامل کرتی رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے پہلے ہی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاری کر لی ہے تاکہ حکومتی رکاوٹوں کو قانونی طور پر چیلنج کیا جا سکے۔
اس جلسے کے نتائج دونوں فریقین کے لیے اہم ہیں۔ حکومت کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا پی ٹی آئی اب بھی اتنی بڑی تعداد میں عوام کو سڑکوں پر لا سکتی ہے یا نہیں۔ تحریک انصاف کے لیے یہ اپنی تنظیمی صلاحیت کو ثابت کرنے کا امتحان ہے۔ کیا سخت نگرانی اور دباؤ کے اس دور میں وہ اپنے کارکنوں کو متحرک رکھ پائیں گے؟
سیکیورٹی اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے۔ سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ ہی شہر بھر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔ ماضی میں اس مقام پر ہونے والے جلسوں میں کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں، جس کے پیشِ نظر پارٹی کے اندرونی حلقے کسی بھی تصادم کی صورتحال کے لیے تیار ہیں۔
اگست کی پانچ تاریخ جیسے جیسے قریب آ رہی ہے، سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ انتظامیہ اسے روکنے کے لیے کیا حکمت عملی اپناتی ہے۔ یہ جلسہ نہ صرف لاہور کی سیاست بلکہ ملک کے مجموعی سیاسی مستقبل کا رخ متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
