آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران کوٹلی میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ میرپور ڈویژن میں پولنگ کا عمل شروع ہوتے ہی کشیدگی میں تبدیل ہو گیا، جس نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ہلاک ہونے والا شخص ایک مقامی سیاسی جماعت کا کارکن بتایا گیا ہے، جو پولنگ اسٹیشن کے باہر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران شدید زخمی ہوا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق جھگڑا حکومتی جماعت اور اپوزیشن کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی کے بعد شروع ہوا، جس نے جلد ہی پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔
علاقے میں دھاندلی کے الزامات نے آگ پر تیل کا کام کیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ حلقہ ایل اے-12 کوٹلی سمیت متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر بیلٹ بکسوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں پولنگ اسٹیشنوں کے باہر کارکنوں کو دست و گریبان دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ووٹرز کا الزام ہے کہ انہیں ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔
الیکشن کمیشن پر شدید دباؤ تھا کہ متاثرہ علاقوں میں پولنگ کا عمل معطل کیا جائے، تاہم حکام نے ایسا کرنے کے بجائے مخصوص اسٹیشنوں پر ووٹنگ کا وقت بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اس اقدام پر اپوزیشن امیدواروں نے کڑی تنقید کی، جن کا موقف ہے کہ انتخابی عمل کی ساکھ پہلے ہی مجروح ہو چکی تھی۔
کشیدگی کے پیش نظر انتظامیہ نے میرپور اور کوٹلی میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے اور اضافی نفری تعینات کی گئی۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں کی موجودگی کے باوجود حالات پر قابو پانا مشکل رہا۔ یہ انتخابات وفاقی حکومت کی کارکردگی پر ایک ریفرنڈم کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی درجہ حرارت پہلے ہی عروج پر تھا۔
دن کے آخری پہر تک ٹرن آؤٹ ملا جلا رہا۔ جہاں امن تھا، وہاں ووٹرز کی قطاریں لگیں، جبکہ پرتشدد علاقوں میں خوف کے باعث ووٹرز گھروں تک محدود رہے۔
ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو چکا ہے، لیکن کوٹلی واقعے نے نتائج کی شفافیت پر گہرا سایہ ڈال دیا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ الیکشن کمیشن دھاندلی کے الزامات پر کیا کارروائی کرتا ہے، کیونکہ اس فیصلے کا براہِ راست اثر مظفرآباد میں بننے والی اگلی حکومت کے استحکام پر پڑے گا۔
