کوئٹہ کی مصروف شاہراہوں پر ٹریفک کا دیرینہ مسئلہ اب ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے حل ہوگا۔ صوبائی حکومت نے شہر کے اہم چوراہوں پر مصنوعی ذہانت سے لیس ٹریفک سگنلز نصب کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد فرسودہ ٹائمر سسٹم کو جدید اور خودکار نظام سے تبدیل کرنا ہے۔
یہ منصوبہ شہر میں ٹریفک مینجمنٹ کے روایتی انداز کو مکمل طور پر بدل دے گا۔ موجودہ سگنلز ایک مخصوص وقت پر چلتے ہیں، چاہے سڑک خالی ہو یا گاڑیوں کا ہجوم۔ نئے سینسرز ٹریفک کے دباؤ کو خودکار طریقے سے مانیٹر کریں گے اور گاڑیوں کی تعداد کے مطابق سگنل کا دورانیہ کم یا زیادہ کریں گے، تاکہ ٹریفک کا بہاؤ بلا تعطل جاری رہے۔
عام مسافروں کے لیے اس کا مطلب سگنلز پر بلاوجہ کھڑے رہنے کے اوقات میں کمی ہے۔ انتظامیہ کے لیے یہ ‘اسمارٹ سٹی’ کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جو تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور بوسیدہ سڑکوں کے دباؤ میں دبے ہوئے شہر کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش ہے۔
کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ "موجودہ نظام ٹریفک کے حقیقی دباؤ سے بے خبر ہے۔ نئے سینسرز گاڑیوں کی تعداد دیکھ کر خود فیصلہ کریں گے کہ کس سائیڈ کو ترجیح دینی ہے، یہ صرف ایک گھڑی کے محتاج نہیں ہوں گے۔”
اس منصوبے کا آغاز سریاب روڈ اور جناح روڈ جیسے مصروف ترین کوریڈورز سے کیا جا رہا ہے، جہاں ٹریفک جام معمول ہے۔ انجینئرز ان علاقوں میں ٹریفک کے ڈیٹا کی نقشہ سازی کر رہے ہیں تاکہ الگورتھم کو درست طریقے سے ترتیب دیا جا سکے۔ حکام کا ہدف ہے کہ پہلے چھ ماہ کے دوران شہر کے مرکز میں سفر کے دورانیے میں کم از کم 30 فیصد کمی لائی جائے۔
تاہم، تکنیکی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ محض ٹیکنالوجی کوئٹہ کے ٹریفک مسائل کا واحد حل نہیں ہے۔ سڑکوں پر تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ سگنلز کی کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ ڈرائیور لین کے نظم و ضبط کی کتنی پاسداری کرتے ہیں، جو شہر میں اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
منصوبے کا پہلا مرحلہ پانچ اہم چوراہوں پر پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع ہوگا۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو اگلے برس اسے پورے شہر میں نافذ کر دیا جائے گا۔ کوئٹہ کے باسی اب اس امید پر ہیں کہ دہائیوں سے جاری ٹریفک کے عذاب سے انہیں جلد نجات مل سکے گی۔
