میڈرڈ — اسپین کی وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ملک بھر میں جاری شدید گرمی کی لہر کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے۔ جزیرہ نما آئبیرین میں مسلسل پانچویں روز بھی پارہ چڑھنے سے ہنگامی طبی خدمات دباؤ کا شکار ہیں۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ اب تک ہونے والی درجنوں اموات کا براہِ راست تعلق حدت سے ہے، جن میں بڑی عمر کے افراد اور پہلے سے بیمار شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
گزشتہ روز اندلس کے کچھ علاقوں میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی صحت اور بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک مہلک حد ہے۔ میڈرڈ اور سیویل کے ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوا ہے، جس نے پہلے سے مصروف طبی عملے کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
ایک اعلیٰ عہدیدار نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "گرمی کے دورانیے اور شرح اموات میں اضافے کے درمیان واضح تعلق نظر آ رہا ہے۔” انہوں نے فوری طور پر حتمی تعداد بتانے سے گریز کیا، کیونکہ دیہی علاقوں میں ہونے والی بہت سی اموات کی اطلاع فوری طور پر حکام تک نہیں پہنچ پاتی۔
حکومت نے 15 صوبوں میں "ریڈ الرٹ” نافذ کر دیا ہے۔ اس اقدام کے تحت عوامی سوئمنگ پولز کے اوقات کار بڑھا دیے گئے ہیں، شہری پارکوں کو کولنگ سینٹرز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور کمزور طبقے کے شہریوں کی فلاحی جانچ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ تاہم، بحران کی شدت ان اقدامات کی استعداد سے کہیں زیادہ ہے۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ فضا میں "ہیٹ ڈوم” بننے کے باعث گرم ہوا کا دباؤ خطے پر رک گیا ہے، جو جنوبی یورپ میں اب ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ جہاں حکومت فوری ریلیف پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، وہیں ماحولیاتی تنظیمیں طویل مدتی حکمت عملی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اسپین کی رہائشی عمارتیں اور شہری منصوبہ بندی 40 ڈگری سے زائد درجہ حرارت والے مستقبل کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
فی الحال تمام تر توجہ اگلے 48 گھنٹوں پر مرکوز ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گرمی کی شدت بدھ کو اپنے عروج پر ہوگی، جس کے بعد ہفتے کے آخر تک درجہ حرارت میں کمی کا امکان ہے۔ درجہ حرارت میں کمی تک، ہلاکتوں کے اعداد و شمار کا بڑھنا اسپین کی ایک تلخ حقیقت بنا ہوا ہے۔
