کراچی کے علاقے قائد آباد میں ایک تین سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے گھناؤنے واقعے کی تحقیقات کے لیے انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو کی ہدایت پر ایک اعلیٰ سطح کی تفتیشی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ کلثوم نامی یہ بچی منگل کی دوپہر مسلم آباد کالونی میں اپنے گھر کے باہر کھیلنے گئی تھی، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئی۔ اسی شام اس کی لاش گھر کے قریب ایک گلی کے مرکزی دروازے کے پاس سے ایک بوری سے برآمد ہوئی۔ ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد تصدیق کی ہے کہ معصوم بچی کو قتل کرنے سے پہلے شدید ترین زبردستی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
تفتیشی حکام اور لیڈی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کی سربراہی میں ڈاکٹروں کی ٹیم نے اب تک اسی محلے کے 12 مشکوک افراد کے نمونے حاصل کر لیے ہیں جن میں سے کچھ بچی کے قریبی رشتہ دار بھی بتائے جاتے ہیں۔ پولیس کے مطابق، خفیہ معلومات اور مقامی ذرائع کی بنیاد پر تفتیش کا دائرہ کار فی الحال تین قریبی رشتہ داروں کے گرد گھوم رہا ہے جنہیں حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جائے گی۔ حاصل کیے گئے تمام نمونے فرانزک جانچ کے لیے جامعہ کراچی کی لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ کیس میں اصل کامیابی ان رپورٹوں کے آنے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔ پولیس ٹیم کو پورا یقین ہے کہ اس جرم میں ملوث شخص اسی محلے کا رہائشی ہے۔
بچی کے والد کی مدعیت میں قائد آباد تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف قتل، اغوا، زیادتی، غیر فطری فعل اور ثبوت چھپانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سمیہ سید نے اس واقعے کو اپنے پیشہ ورانہ سفر کا دردناک ترین واقعہ قرار دیتے ہوئے شدید دکھ کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب، آئی جی سندھ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کسی بھی رعایتی سلوک کے مستحق نہیں ہیں اور انہیں سخت ترین سزا دی جائے گی۔ واضح رہے کہ اسی ہفتے سرگودھا میں بھی ایک سات سالہ بچی کو زیادتی کی کوشش کے بعد قتل کرنے کا واقعہ سامنے آیا تھا، جہاں پولیس کی گرفتاری سے بھاگنے کی کوشش کے دوران مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔
