یونان کے جزیرے خیوس میں جنگل میں لگنے والی دو بڑی آگ نے تباہی مچا دی ہے۔ شدید ہواؤں اور خشک موسم کے باعث پھیلنے والی ان آگ کے شعلوں کی زد میں آکر دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ حکام نے احتیاطی تدابیر کے طور پر سینکڑوں رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
مقامی انتظامیہ نے بدھ کی رات ہلاکتوں کی تصدیق کی۔ مرنے والے دونوں افراد مقامی تھے جو میٹوچی گاؤں کے قریب آگ بجھانے میں مدد کر رہے تھے۔ ان کی موت نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ بحیرہ روم کے خطے میں اس بار آگ لگنے کا سیزن توقع سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ شروع ہوا ہے۔
آگ دو مختلف مقامات پر بھڑکی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے اور بے قابو الاؤ میں تبدیل ہو گئی۔ دوپہر تک دھوئیں کے بادلوں نے جزیرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے بعد میٹوچی اور سڈیرونٹا کی بستیوں کو خالی کرانے کے ہنگامی احکامات جاری کیے گئے۔ رہائشیوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف بھاگنا پڑا۔
فائر فائٹرز کی ٹیمیں اپنی صلاحیتوں کے آخری حدوں تک کام کر رہی ہیں۔ 100 سے زائد فائر فائٹرز، پانی گرانے والے طیارے اور رضاکاروں کی ٹیمیں دشوار گزار راستوں پر آگ پر قابو پانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ تیز ہوائیں فضائی مدد کے عمل کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہیں، جس کی وجہ سے سیاحوں اور مقامی لوگوں کا انخلا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
یونان کی وزارت برائے موسمیاتی بحران نے جزیرے کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے اور نمی کی کمی کے باعث سوکھی جھاڑیاں آگ کے لیے ایندھن کا کام کر رہی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ موسم سرما میں ریکارڈ خشک سالی اس شدت کی بڑی وجہ ہے، جس نے مٹی میں نمی کا تناسب ایک دہائی کی کم ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
یہ اس ماہ خطے میں آگ لگنے کا دوسرا بڑا واقعہ ہے، جو یونان کے لیے ایک مشکل موسم گرما کی نوید ہے۔ گزشتہ سال بھی اسی طرح کی آگ نے ہزاروں لوگوں کو بے گھر کیا تھا، جس کے بعد حکومت کو اپنی قومی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا پڑی تھی۔
خیوس میں سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی فائر فائٹرز ایک اور مشکل رات کی تیاری کر رہے ہیں۔ پائن کے جنگلات اور زیتون کے باغات کو راکھ میں تبدیل کرتی یہ آگ فی الحال تھمتی دکھائی نہیں دے رہی۔ مقامی لوگوں کے لیے اپنے گھروں کی سلامتی اور اس تباہی کے خاتمے کا انتظار ابھی طویل ہے۔
