رائل آبزرویٹری گرین وچ کے زیر اہتمام ‘اسٹرونومی فوٹوگرافر آف دی ایئر’ مقابلے میں ‘رننگ مین نیبولا’ کی ایک مسحور کن تصویر نے پہلا انعام اپنے نام کر لیا ہے۔ یہ تصویر شوقیہ فلکیات دان ریان امپیریو نے کھینچی ہے، جس نے دنیا بھر سے بھیجے گئے ہزاروں شاہکاروں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 10 ہزار پاؤنڈز کا مرکزی انعام حاصل کیا۔
‘ڈسٹارٹڈ شیڈوز’ کے عنوان سے پیش کی گئی یہ تصویر کئی راتوں پر محیط محنت کا نتیجہ ہے۔ اس تصویر کی خاص بات صرف گیس کے بادلوں کی شفافیت نہیں، بلکہ اس میں دکھایا گیا وہ باریک اور بدلتا ہوا نور ہے جو زمین سے تقریباً 1500 نوری سال دور، برج جبار میں واقع ‘Sh2-279’ نیبولا سے خارج ہوتا ہے۔
جیوری کے رکن اور فوٹوگرافر اسٹیو مارش نے کہا، "یہ تصویر صبر کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ ان حرکات و سکنات کا پیچھا کرنا اور انہیں اتنی وضاحت کے ساتھ پیش کرنا ایک نایاب ہنر ہے۔”
سولہ سال پرانے اس مقابلے میں اس بار 58 ممالک سے 3500 سے زائد انٹریز موصول ہوئیں۔ اگرچہ مقابلے میں چاند کے مناظر سے لے کر کہکشاؤں کے پیچیدہ دائروں تک کئی زمرے شامل تھے، مگر امپیریو کا کام تاریک دھول اور ہائیڈروجن کی روشنی کے امتزاج سے بننے والی ‘رننگ مین’ کی منفرد شکل کی بدولت ججوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔
ریان امپیریو کے لیے یہ جیت ان تھک گھنٹوں کا صلہ ہے جو انہوں نے اپنے گھر کے عقبی حصے میں بنے آبزرویٹری میں گزارے۔ انہوں نے ایک سال کا بڑا حصہ اس ڈیٹا کو نکھارنے میں صرف کیا، جس دوران انہیں شہری روشنیوں کی آلودگی اور فضا میں موجود رکاوٹوں کا سامنا رہا تاکہ نیبولا کی مدھم تفصیلات کو تاریکی سے باہر نکالا جا سکے۔
تقریب کے بعد امپیریو نے کہا، "میں یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ کائنات کے وسیع تر مناظر کو قید کرنے کے لیے کسی خلائی ایجنسی کے بھاری بجٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو صرف ایک صاف رات اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔”
جیتنے والی تصاویر کی نمائش اس ہفتے لندن کے نیشنل میری ٹائم میوزیم میں شروع ہو رہی ہے۔ یہ نمائش سائنسی ڈیٹا اور فنکارانہ کمپوزیشن کے سنگم کا ایک نادر نمونہ پیش کرتی ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ کائنات کے سب سے دلکش مناظر اکثر ان لوگوں کی نظروں سے سامنے آتے ہیں جو اپنے گھر کی چھتوں سے آسمان کو تکتے ہیں۔
