پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے ان کے خلاف جاری کیے گئے ایک سخت بیان کے بعد اٹھایا گیا، جس کے بعد حکومتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
منگل کی شب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عظمیٰ بخاری کی رہائش گاہ اور ان کی نقل و حرکت کے لیے سیکیورٹی کا دائرہ کار وسیع کر دیا۔ ذرائع کے مطابق، محکمہ داخلہ پنجاب کو موصول ہونے والی انٹیلی جنس رپورٹس میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ سیاسی بیانات کے تناظر میں وزیر اطلاعات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
تناؤ کا آغاز اس وقت ہوا جب ٹی ایل پی کے ترجمان نے عظمیٰ بخاری کے حالیہ سیاسی موقف پر شدید تنقید کرتے ہوئے براہِ راست بیان جاری کیا۔ صوبائی وزیر، جو ٹی ایل پی کے دھرنوں اور مطالبات پر کھل کر تنقید کرتی رہی ہیں، نے اس دھمکی کے باوجود اپنے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
وزیر اطلاعات کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ "حکومت دھمکیوں کے سامنے جھکنے والی نہیں ہے، تاہم سیکیورٹی پروٹوکولز کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔” انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ اب اس معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے سیکیورٹی معاملات کی نگرانی کر رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ صورتحال صوبائی حکومت اور مذہبی جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتی ہے۔ حکومت کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی قیادت کی حفاظت کو کیسے یقینی بناتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سیاسی بیانات مذہبی حساسیت کا رنگ اختیار کر رہے ہوں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب عظمیٰ بخاری کا ٹی ایل پی کے ساتھ تصادم ہوا ہو۔ ماضی میں بھی ان کے سخت بیانات پر مذہبی حلقوں کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کرایا جاتا رہا ہے، لیکن حالیہ بیان نے معاملے کو سیاسی اختلاف سے نکال کر ذاتی تحفظ کے سنگین بحران میں بدل دیا ہے۔
پولیس نے دھمکی آمیز بیان کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم تاحال کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاستی مشینری اس چیلنج سے کیسے نمٹتی ہے اور کیا یہ سیکیورٹی اقدامات مزید تناؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں گے یا نہیں۔
