سوشل میڈیا پر حالیہ عرصے سے ایک دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ اینٹی پیراسائٹک دوا ‘آئیورمیکٹن’ کینسر کا ایک موثر علاج ثابت ہو سکتی ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود بلاگز اور ویڈیوز میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ دوا رسولیوں کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم، کینسر کے امراض کے ماہرین اس دعوے کو سائنسی بنیادوں سے عاری قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبارٹری میں ٹیسٹ ٹیوب کے اندر ہونے والے کیمیائی عمل اور انسانی جسم پر اثرات میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
کلینیکل آنکولوجسٹ ڈاکٹر ایلینا روسی کہتی ہیں، "ہم ہر چند سال بعد اس قسم کی افواہیں سنتے ہیں۔ لیب میں کینسر کے خلیات پر اثر کرنے والی کوئی بھی دوا سوشل میڈیا پر ‘جادوئی علاج’ کے طور پر پیش کر دی جاتی ہے۔ مریض ہم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کیموتھراپی چھوڑ کر یہ سپلیمنٹ شروع کرنا چاہتے ہیں، لیکن حیاتیاتی حقیقت انتہائی پیچیدہ ہے۔”
اس الجھن کی بنیادی وجہ چند ‘ان وٹرو’ مطالعات ہیں، جو صرف لیبارٹری کے ماحول میں خلیات پر کیے گئے تھے۔ اگرچہ کچھ تجربات میں یہ دیکھا گیا کہ آئیورمیکٹن کینسر کے خلیات کے سگنلنگ پاتھ وے میں مداخلت کر سکتی ہے، لیکن ان نتائج کی تصدیق کسی بھی مستند کلینیکل ٹرائل میں نہیں ہو سکی ہے جس میں انسانوں پر اس کا تجربہ کیا گیا ہو۔
نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کا ڈیٹا واضح ہے: آئیورمیکٹن کو کینسر کے علاج کے طور پر استعمال کرنے کے حق میں کوئی طبی ثبوت موجود نہیں ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق، اصل خطرہ صرف اس دوا کے غیر مؤثر ہونے کا نہیں، بلکہ اس کے نتیجے میں علاج میں ہونے والی تاخیر ہے۔ جب مریض غیر مصدقہ متبادل طریقوں کی طرف بھاگتے ہیں، تو وہ اکثر سرجری، ٹارگٹڈ تھراپی یا امیونو تھراپی جیسے جان بچانے والے روایتی علاج کو ترک کر دیتے ہیں۔ جب تک وہ دوبارہ اسپتال پہنچتے ہیں، کینسر اس مرحلے پر پہنچ چکا ہوتا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہوتی ہے۔
ہیماتولوجک میلگننسی کے ماہر ڈاکٹر مارک ہینڈرسن کہتے ہیں، "کینسر کوئی ایک بیماری نہیں، بلکہ یہ سینکڑوں مختلف بیماریوں کا مجموعہ ہے، جن میں سے ہر ایک کے جینیاتی محرکات الگ ہیں۔ لیب میں کسی ایک سیل لائن کو ختم کرنے والی دوا صرف تحقیق کا نقطہ آغاز ہو سکتی ہے، طبی سفارش نہیں۔ ایسا دعویٰ کرنا مریضوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔”
فی الحال، آئیورمیکٹن کا استعمال صرف پیراسائٹک انفیکشنز جیسے اسکیبیز یا ریور بلائنڈنس کے علاج تک محدود ہے۔
جو مریض کینسر کے نئے علاج کی تلاش میں ہیں، ماہرین انہیں کلینیکل ٹرائلز میں حصہ لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ کلینیکل ٹرائلز مریضوں کو ایسی جدید ادویات تک رسائی دیتے ہیں جو کم از کم حفاظتی مراحل سے گزر چکی ہوتی ہیں، جو کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان بے بنیاد دعووں سے کہیں زیادہ محفوظ اور معتبر راستہ ہے۔
جب تک بڑے پیمانے پر انسانی کلینیکل ٹرائلز اس دوا کی افادیت اور حفاظت ثابت نہیں کر دیتے، طبی برادری کا متفقہ موقف یہی ہے کہ آئیورمیکٹن کا کینسر کے علاج کے منصوبے میں کوئی کردار نہیں ہے۔
