پاکستان میں سائبر سیکیورٹی کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس میں جعل سازوں نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جعلی ویب سائٹس بنا کر ایک کروڑ پاکستانی شہریوں کا حساس ڈیٹا چرایا ہے۔ یہ ڈیٹا اب ڈارک ویب اور غیر قانونی مارکیٹوں میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
یہ ڈیٹا چوری کسی ہیکنگ اٹیک کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک منظم دھوکہ دہی تھی۔ ملزمان نے نادرا کے پورٹلز سے ملتی جلتی ویب سائٹس تیار کیں اور شہریوں کو ترغیب دی کہ وہ اپنی شناختی تفصیلات کی تصدیق کے لیے ان لنکس پر کلک کریں۔ لوگ، جو سرکاری سہولیات کے حصول کے لیے پہلے ہی پریشان تھے، ان جعلی لنکس پر اپنے نام، شناختی کارڈ نمبر اور دیگر ذاتی معلومات درج کرتے رہے۔
اس واقعے نے ملکی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک کروڑ افراد کا ڈیٹا چوری ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ معلومات اب بینکنگ فراڈ، شناخت کی چوری اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔
سائبر سیکیورٹی کے ایک ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ان جعلی ویب سائٹس کا ڈیزائن اتنا ماہرانہ تھا کہ عام آدمی کے لیے اصلی اور نقل میں فرق کرنا ناممکن تھا۔ جعل سازوں نے نادرا کے لوگو اور انٹرفیس کو ہو بہو کاپی کیا تھا۔”
نادرا حکام کا موقف ہے کہ ان کے مرکزی سرورز محفوظ ہیں اور یہ ڈیٹا چوری بیرونی ذرائع سے کی گئی۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ شہریوں کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔ وزارت داخلہ نے اس معاملے پر تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان جعلی ڈومینز کو فوری طور پر بند کرے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف ویب سائٹس بند کرنے سے نقصان کی تلافی ممکن ہے؟ متاثرین کے لیے خطرہ اب بھی برقرار ہے۔ بینکوں اور ٹیلی کام کمپنیوں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ ان جعلی معلومات کے ذریعے کسی بھی قسم کے غیر قانونی اکاؤنٹ کھولنے یا ٹرانزیکشنز کو روکا جا سکے۔
پاکستان میں سرکاری خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن تو ہو رہی ہے، لیکن شہریوں کو اس کے محفوظ استعمال کی تربیت دینے کا عمل سست ہے۔ جب تک حکومت ایک مرکزی اور تصدیق شدہ ڈیجیٹل گیٹ وے قائم نہیں کرتی، عوام کا ڈیٹا اسی طرح خطرے میں رہے گا، اور جعل ساز نئے طریقوں سے لوگوں کی جیبوں اور شناخت پر نقب لگاتے رہیں گے۔
