قاہرہ — نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار آج قاہرہ پہنچ گئے۔ ان کا مشن مختصر مگر انتہائی اہم ہے: ‘آر-4’ اقتصادی فریم ورک کو حتمی شکل دینا۔ کئی ماہ سے تعطل کا شکار یہ مذاکرات اب ایک فیصلہ کن موڑ پر آ چکے ہیں۔
اسحاق ڈار یہاں محض رسمی ملاقاتوں کے لیے نہیں آئے، بلکہ اپنے ساتھ مالیاتی روڈ میپ کا ایک نظرثانی شدہ مسودہ لائے ہیں۔ وزارت خزانہ کو امید ہے کہ یہ تجاویز علاقائی قرض دہندگان کو مطمئن کر سکیں گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، بات چیت کا محور قرضوں کی تنظیم نو اور طویل مدتی لیکویڈیٹی سپورٹ ہے—وہ مراعات جن کی پاکستان کو شدید ضرورت ہے تاکہ ادائیگیوں کے توازن کا بحران مزید نہ بگڑے۔
ریاض میں ہونے والے گزشتہ سربراہی اجلاس کے بعد سے ہی آر-4 فریم ورک تنازع کا باعث رہا ہے۔ قرض دہندگان سخت ٹیکس اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ فوری کفایت شعاری کے اقدامات سے ملک میں عوامی بے چینی بڑھ سکتی ہے۔ اسحاق ڈار کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ ان مطالبات اور ملکی معاشی حقیقتوں کے درمیان توازن کیسے قائم کرتے ہیں، خاص طور پر جب عوام پہلے ہی بجلی اور ایندھن کی بلند قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہیں۔
ہوائی اڈے پر میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا، "ہم یہاں اپنی معاشی سمت کو علاقائی حقائق سے ہم آہنگ کرنے آئے ہیں۔” انہوں نے مذاکرات کے اہم نکات پر خاموشی اختیار کی، لیکن ان کا دورہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اب آر-4 شراکت داروں کی جانب سے مانگے گئے ‘سخت فیصلوں’ کے لیے تیار ہے۔
پس پردہ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو پاکستان کو دو ارب ڈالر کی اس کریڈٹ لائن تک رسائی نہیں ملے گی جو اگلی سہ ماہی میں روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ مرکزی بینک کے ذخائر محدود ہیں، جس کے باعث سفارتی داؤ پیچ کے لیے گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔
مذاکرات کا یہ سلسلہ جمعرات تک جاری رہے گا۔ اگرچہ وزارت خزانہ بظاہر پرامید ہے، لیکن حتمی نتیجہ اس بات پر منحصر ہے کہ آیا اسحاق ڈار آر-4 کمیٹی کو یہ یقین دلا پاتے ہیں کہ پاکستان کی حالیہ ٹیکس اصلاحات صرف کاغذ تک محدود نہیں ہیں۔
اگر آر-4 معاہدہ طے نہ پایا تو حکومت کو مہنگے اور قلیل مدتی تجارتی قرضوں کا رخ کرنا پڑے گا، جس سے ملک کا پہلے ہی سے نازک بحالی کا منصوبہ پٹری سے اتر سکتا ہے۔
