آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے ایل اے 17 کے انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے والی دو درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد چوہدری یاسین راٹھور کی کامیابی کی راہ میں حائل قانونی رکاوٹیں ختم ہو گئی ہیں اور انتخابی نتائج حتمی قرار پا گئے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) عبدالرشید سلہریہ کی سربراہی میں کمیشن نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سنے۔ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ انتخابی عمل کے دوران دھاندلی ہوئی اور مخصوص پولنگ اسٹیشنز پر نتائج میں ردوبدل کیا گیا۔ انہوں نے کمیشن سے مطالبہ کیا تھا کہ یا تو ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے یا دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔
چوہدری یاسین راٹھور کی قانونی ٹیم نے ان الزامات کو یکسر مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ درخواست گزاروں کے پاس کوئی ٹھوس شواہد نہیں، بلکہ یہ محض شکست کے بعد نتائج کو متنازع بنانے کی کوشش ہے۔ کمیشن نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پیش کردہ شواہد قانونی تقاضے پورے نہیں کرتے، اس لیے نتائج کالعدم قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں۔
پیپلز پارٹی کے لیے یہ فیصلہ انتہائی اہم ہے۔ ایل اے 17 کی نشست پارٹی کی قانون ساز اسمبلی میں پوزیشن کو مستحکم رکھتی ہے۔ اگر نتائج تبدیل ہوتے تو پارٹی کو اسمبلی میں عددی برتری برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
دوسری جانب، شکست کھانے والے امیدواروں نے کمیشن کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ الیکشن کمیشن کا فورم اب بند ہو چکا ہے، تاہم اپوزیشن امیدواروں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
فی الحال، انتخابی نتائج اپنی جگہ برقرار ہیں اور چوہدری یاسین راٹھور ایل اے 17 کے منتخب نمائندے کے طور پر کام جاری رکھیں گے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا اپوزیشن واقعی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی یا انتخابی عمل کا یہ تنازع یہیں ختم ہو جائے گا۔
