مصنوعی ذہانت کے میدان میں تیزی سے ابھرتی ہوئی کمپنی ‘اینتھروپک’ نے اپنے ممکنہ آئی پی او کے لیے انتہائی جارحانہ مالیاتی اہداف مقرر کیے ہیں۔ کمپنی کی جانب سے سرمایہ کاروں کو دی گئی بریفنگ کے مطابق، اینتھروپک کا ہدف 2028 تک اپنی سالانہ آمدنی کو 190 سے 200 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔
یہ اعداد و شمار کمپنی کی موجودہ کارکردگی کے مقابلے میں غیر معمولی ہیں۔ 2024 کے وسط تک، کمپنی کی سالانہ آمدنی کا تخمینہ صرف ایک ارب ڈالر کے قریب تھا۔ چار برسوں میں 200 گنا ترقی کا دعویٰ نہ صرف حیران کن ہے بلکہ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔
اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اینتھروپک کو اپنی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی لانی ہوگی۔ انہیں صرف ایک تحقیقی لیب کے بجائے ایک ایسی کاروباری قوت بننا ہوگا جو اوپن اے آئی اور گوگل جیسی بڑی کمپنیوں کو ٹکر دے سکے۔ کمپنی کا سارا انحصار اپنے ‘کلاڈ’ ماڈلز پر ہے، جنہیں وہ محض چیٹ بوٹس سے نکال کر کاروباری اداروں کے خودکار نظام کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔
سرمایہ کاروں کی تشویش کا مرکز صرف آمدنی نہیں بلکہ ‘کمپیوٹیشنل اخراجات’ ہیں۔ اے آئی ماڈلز کی تربیت اور انہیں چلانے کے لیے درکار جی پی یو پر آنے والی لاگت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اینتھروپک اپنی آمدنی بڑھا کر ان بھاری اخراجات کو پورا کر سکے گی یا یہ ماڈل منافع بخش بننے کے بجائے کمپنی کے سرمائے کو نگل جائے گا؟
آئی پی او کی جانب یہ پیش قدمی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب وینچر کیپیٹل مارکیٹ کا مزاج بدل چکا ہے۔ اب سرمایہ کار صرف ‘گروتھ’ پر یقین نہیں رکھتے، بلکہ وہ منافع کا واضح راستہ یا مارکیٹ پر مکمل گرفت دیکھنا چاہتے ہیں۔ 2028 کے اہداف کا اعلان دراصل ان سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوشش ہے جو اے آئی کے ابتدائی جوش و خروش سے ہٹ کر ٹھوس نتائج کے متلاشی ہیں۔
کمپنی کا موجودہ کیش برن ریٹ یہ بتاتا ہے کہ آئی پی او سے قبل انہیں ایک اور بڑے نجی فنڈنگ راؤنڈ کی ضرورت پڑے گی۔ کیا عوامی مارکیٹ 200 ارب ڈالر کے اس خواب پر یقین کرے گی یا اسے ایک بڑا جوا سمجھے گی؟ اس کا فیصلہ آنے والے وقت میں ہوگا۔
فی الحال اینتھروپک کی قیادت اپنی پوری توجہ سیلز ٹیم کو پھیلانے پر مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ آئی پی او کا دروازہ بند ہونے سے پہلے، اپنی تکنیکی برتری کو ایک مستقل اور مستحکم آمدنی کے سلسلے میں تبدیل کیا جائے۔
