اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں گزشتہ ہفتے لگنے والی آگ کو بروقت بجھایا جا سکتا تھا، لیکن ہسپتال کی داخلی سیکیورٹی کی غیر لچکدار پالیسیوں نے ریسکیو آپریشن کو شدید متاثر کیا۔ ایک داخلی تحقیقاتی رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ فائر فائٹرز کو آگ بجھانے کے بجائے مرکزی گیٹس کے تالے توڑنے اور کنکریٹ کی رکاوٹیں ہٹانے میں قیمتی منٹ ضائع کرنا پڑے۔
جب ایمرجنسی ٹیمیں پہلی بار ہسپتال کے مرکزی گیٹ پر پہنچیں تو انہیں زنجیروں سے بند تالے ملے۔ سیکیورٹی عملہ ہڑبڑاہٹ کا شکار تھا اور چابیاں تلاش کرنے میں ناکام رہا، جبکہ اس دوران پیڈیاٹرک وارڈ سے دھواں اٹھنا شروع ہو چکا تھا۔
ریسکیو اہلکاروں کے لیے یہ چند منٹ انتہائی مہنگے ثابت ہوئے۔ گیٹس بند ہونے کے باعث آگ وینٹیلیشن ڈکٹس کے ذریعے پھیل گئی، جس کی وجہ سے پہلے ہی تشویشناک حالت میں موجود مریضوں کو شدید افراتفری کے عالم میں منتقل کرنا پڑا۔ ہسپتال انتظامیہ نے ہنگامی راستوں کے بجائے سیکیورٹی کو ترجیح دی، جس کا نتیجہ آگ کی صورت میں بھگتنا پڑا۔
ایک سینئر ریسکیو افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم عملاً ایک جلتی ہوئی عمارت کے باہر کھڑے تالے توڑ رہے تھے۔ آپ کے پاس شہر کا بہترین سامان ہو، لیکن اگر آپ مرکزی دروازے سے ہی داخل نہ ہو سکیں تو وہ سب بے کار ہے۔”
رپورٹ میں پمز کی سیکیورٹی پالیسیوں میں "سائلوس” یعنی باہمی رابطے کے فقدان کی نشاندہی کی گئی ہے۔ نجی سیکیورٹی ٹھیکیدار، جنہیں صرف داخلے کنٹرول کرنے کے سخت احکامات تھے، ہسپتال کی فائر سیفٹی ٹیم کے ساتھ کسی بھی قسم کی ہنگامی منصوبہ بندی کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ ہسپتال کے داخلی راستوں پر رکھی گئی کنکریٹ کی بڑی رکاوٹیں، جو پارکنگ روکنے کے لیے لگائی گئی تھیں، فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے لیے رکاوٹ بن گئیں۔
ہسپتال انتظامیہ نے اس واقعے پر دفاعی موقف اختیار کرتے ہوئے اسے سیکیورٹی خدشات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ہسپتال میں چوری اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے کو روکنے کے لیے ضروری تھے۔
تاہم، تحقیقاتی رپورٹ انتظامیہ کی ترجیحات پر سوال اٹھاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہسپتال انتظامیہ نے ہجوم کو کنٹرول کرنے پر تو توجہ دی، لیکن یہ حقیقت نظر انداز کر دی کہ ہسپتال ایک ہائی رسک زون ہے جہاں آگ لگنے کی صورت میں ہر سیکنڈ قیمتی ہوتا ہے۔
یہ رپورٹ وزارتِ صحت کو بھجوا دی گئی ہے، جس میں تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں کے حفاظتی پروٹوکولز کا فوری جائزہ لینے کی سفارش کی گئی ہے۔ آگ کے دوران رات کے اندھیرے میں کھلی فضا میں منتقل کیے جانے والے مریضوں کے لیے یہ تحقیقاتی رپورٹ کوئی تسلی نہیں، لیکن یہ حقیقت ضرور واضح کرتی ہے کہ ان کی جانوں کو لاحق سب سے بڑا خطرہ صرف آگ نہیں، بلکہ وہ سیکیورٹی دیواریں تھیں جو انہیں محفوظ رکھنے کے لیے بنائی گئی تھیں۔
