ویلز کے دیہی علاقوں میں غیر قانونی طور پر دفن کیا گیا زہریلا کچرا محض ایک ماحولیاتی غفلت نہیں، بلکہ ایک منظم بحران ہے۔ اداکار مائیکل شین کی حالیہ دستاویزی فلم نے دہائیوں سے چھپے ان کیمیائی ٹھکانوں کو بے نقاب کر دیا ہے، اور ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ کیمرے کی آنکھ نے جو کچھ دکھایا، وہ تباہی کا صرف ایک معمولی سا حصہ ہے۔
کئی دہائیوں سے صنعتی کچرا دیہی زمینوں میں دبایا جا رہا ہے، جس کی نگرانی نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ دستاویزی فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے بھاری دھاتوں اور صنعتی سالوینٹس پر مشتمل زہریلا مواد آہستہ آہستہ زمین میں رِس کر زیرِ زمین پانی کے ان ذخائر کو آلودہ کر رہا ہے جو مقامی زرعی زمینوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
اس منصوبے پر کام کرنے والے ماہرِ مٹی، ڈاکٹر آروین جونز کہتے ہیں، "لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ پرانے قصے ہیں جنہیں محفوظ طریقے سے بند کر دیا گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ جگہوں سے زہر مسلسل خارج ہو رہا ہے۔ یہ مقامی ایکو سسٹم کے لیے ایک ٹائم بم ہے، اور ہمارے پاس اس بات کا کوئی مکمل نقشہ تک نہیں کہ سب سے زیادہ خطرناک مقامات کہاں ہیں۔”
اس مسئلے کی جڑیں 1970 اور 80 کی دہائیوں میں پیوست ہیں۔ اس دور میں صنعتی کچرے کو ٹھکانے لگانے کے قوانین انتہائی نرم تھے اور ٹھیکیداروں نے حفاظت کے بجائے بچت کو ترجیح دی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان مقامات کی حفاظتی تہیں ختم ہو چکی ہیں، جس سے زہریلا مواد براہِ راست آبی گزرگاہوں میں شامل ہو رہا ہے۔
ماحولیاتی تنظیمیں اب زمین کے استعمال کے قومی آڈٹ کا مطالبہ کر رہی ہیں، لیکن اس کام پر اٹھنے والے اخراجات کروڑوں میں ہیں۔ مقامی انتظامیہ، جو پہلے ہی بجٹ کی کمی کا شکار ہے، اس صفائی کے عمل کو شروع کرنے سے کترا رہی ہے۔
مائیکل شین کا موقف ہے کہ یہ معاملہ صرف ماضی کی غلطیوں تک محدود نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید ‘گرین’ اقدامات اکثر ان چھپے ہوئے زہریلے ڈھانچوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جس سے کارپوریشنز ماحولیاتی ضوابط پر عمل کرنے کا دعویٰ تو کرتی ہیں مگر صفائی کا بوجھ عوام پر ڈال دیتی ہیں۔
حکومتی عہدیداران اس معاملے پر خاموش ہیں، جس کی بڑی وجہ ذمہ داری کے تعین میں قانونی پیچیدگیاں ہیں۔ اگر حکومت نے بروقت کارروائی نہ کی تو اس صفائی کا مالی بوجھ بالآخر ٹیکس دہندگان کو ہی اٹھانا پڑے گا۔
جب تک حکومت اس معاملے پر مکمل سروے نہیں کرواتی، آلودگی کی اصل وسعت ایک راز رہے گی۔ ان نشان زد مقامات کے قریب رہنے والے رہائشیوں کے لیے یہ دستاویزی فلم محض ایک انکشاف نہیں، بلکہ ایک انتباہ ہے کہ ان کے پیروں تلے موجود زمین اب شاید محفوظ نہیں رہی۔
