میٹا نے ان الزامات کو ختم کرنے کے لیے 16.68 ارب ڈالر کے بھاری معاوضے پر اتفاق کیا ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فیس بک اور انسٹاگرام نے جان بوجھ کر بچوں میں ذہنی صحت کے بحران اور سوشل میڈیا کی لت کو ہوا دی۔ یہ ٹیکنالوجی کی تاریخ کے سب سے بڑے تصفیوں میں سے ایک ہے، جس نے امریکی ریاستوں اور متاثرہ خاندانوں کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمات کے طویل سلسلے کو روک دیا ہے۔
معاہدے کے تحت میٹا نے کسی غلطی کا اعتراف نہیں کیا۔ یہ اربوں ڈالر کی رقم دراصل ان برسوں پر محیط قانونی کارروائی سے نکلنے کا ایک راستہ ہے، جس میں کمپنی کے اندرونی تحقیقی ڈیٹا کے افشا ہونے کا خطرہ تھا کہ کس طرح ان کے الگورتھم نوعمروں کی کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
مدعیان کے لیے یہ رقم جدوجہد کا صرف ایک حصہ ہے۔ تصفیے میں اس بات کو لازمی قرار دیا گیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر صارفین کے لیے میٹا کے ‘ریکمنڈیشن انجنز’ کے کام کرنے کے طریقے میں بڑی تبدیلیاں کی جائیں گی۔ اب کمپنی کے انجینئرز کو بیرونی آڈٹ کا سامنا کرنا پڑے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ‘انفینائٹ اسکرول’ اور نوٹیفکیشنز کے جارحانہ نظام کو محدود کیا جائے، جنہیں ماہرینِ نفسیات برسوں سے بچوں کی ذہنی صحت کے لیے تباہ کن قرار دیتے رہے ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کی نمائندگی کرنے والی وکیل سارہ جینکنز نے کہا، "میٹا جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایسی مشین بنائی جو بچوں کو نیند، پڑھائی اور ذہنی سکون کی قیمت پر اسکرین سے چپکائے رکھتی ہے۔ اس تصفیے نے انہیں بالآخر یہ نظام تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔”
اگرچہ 16.68 ارب ڈالر میٹا جیسے مالیاتی دیو کو دیوالیہ تو نہیں کریں گے، لیکن یہ کمپنی کے سہ ماہی منافع پر گہرا اثر ڈالیں گے جس کی توقع شیئر ہولڈرز کرتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس فیصلے نے ایک ایسا قانونی معیار قائم کر دیا ہے جسے ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ جیسی دوسری ایپس نظر انداز نہیں کر سکتیں۔
وال اسٹریٹ کے تجزیہ کار میٹا کی مستقبل کی ترقی کے اہداف پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ اگر کمپنی کو اپنے کم عمر صارفین کے لیے مشغولیت بڑھانے والے فیچرز محدود کرنا پڑے، تو ان کے طویل مدتی اشتہاری ماڈل میں بڑی ساختی تبدیلی آئے گی۔
میٹا کی قانونی ٹیم نے اس تصفیے کو "عدالتی کارروائی کی رکاوٹوں سے آگے بڑھنے” کا نام دیا ہے۔ کمپنی نے اپنے مختصر بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ بچوں کے لیے "مناسب تجربات” فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، حالانکہ انہوں نے ان اندرونی دستاویزات کے لیے معافی نہیں مانگی جو ان مقدمات کی وجہ بنیں۔
معاوضے کی ادائیگی کا عمل اگلے سال کے آغاز میں متوقع ہے۔ یہ فنڈز متاثرہ خاندانوں کو معاوضے اور ریاستی سطح پر ڈیجیٹل سیفٹی کے اقدامات کے لیے مختص کیے جائیں گے۔ کروڑوں والدین کے لیے یہ رقم انصاف کی ایک علامت تو ہے، لیکن جس ڈیجیٹل ماحول میں ان کے بچے رہ رہے ہیں، اس میں حقیقی تبدیلی ابھی باقی ہے۔
