بیور کے بنائے ہوئے ڈیم وہ کام کر دکھا رہے ہیں جو کئی ملین ڈالر کے انجینئرنگ منصوبے کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ جانور زمین کو نم رکھنے اور خشک سالی کے اثرات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
امریکی مغربی علاقوں میں ہونے والی حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن مقامات پر بیور آباد ہیں، وہاں شدید گرمی کے باوجود مٹی میں نمی کا تناسب زیادہ اور نباتات سرسبز رہتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث برف پگھلنے کا عمل تیز ہو رہا ہے اور آبی ذخائر سکڑ رہے ہیں، ایسے میں بیور قدرت کے انجینئر کے طور پر ایسے قدرتی آبی ذخائر تعمیر کر رہے ہیں جو موسم بہار کے بعد بھی پانی کو زمین میں محفوظ رکھتے ہیں۔
ماہرینِ ماحولیات طویل عرصے سے بیور کی سرگرمیوں کے فوائد پر کام کر رہے تھے، مگر حالیہ ڈیٹا نے اس کے اثرات کی تصدیق کر دی ہے۔ جن ندی نالوں میں بیور کے ڈیم موجود ہیں، وہاں پانی کو جذب کرنے کی صلاحیت ان علاقوں کے مقابلے میں 10 سے 20 فیصد زیادہ ہے جہاں یہ ڈیم نہیں ہیں۔ خشک سالی کے دوران یہ فرق واضح ہو جاتا ہے؛ بیور کے زیر اثر گھاس کے میدان سرسبز رہتے ہیں، جو اکثر جنگل کی آگ کو پھیلنے سے روکنے میں ایک قدرتی رکاوٹ کا کام بھی دیتے ہیں۔
ماہرِ ہائیڈرولوجی ڈاکٹر ایلینا روسی کہتی ہیں، "بات صرف ڈیم کے پیچھے کھڑے پانی کی نہیں ہے۔ یہ پوری وادی کی بات ہے۔ ڈیم پانی کی رفتار کو کم کر کے اسے زمین کے اندر جذب ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ پانی غائب نہیں ہوتا، بلکہ زیرِ زمین منتقل ہو کر مہینوں تک ارد گرد کے پودوں کو زندگی فراہم کرتا ہے۔”
بیور کے حوالے سے سرکاری اداروں کا نقطہ نظر بھی تیزی سے بدل رہا ہے۔ دہائیوں تک انہیں صرف ایک ‘آفت’ سمجھا جاتا رہا جو سڑکوں کو سیلاب سے متاثر اور آبپاشی کی نالیوں کو بند کرتے تھے۔ اب، لینڈ مینجمنٹ کے ادارے ان جانوروں کو خشک سالی کے شکار علاقوں میں منتقل کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اب ‘بیور ڈیم اینالاگز’ (مصنوعی ڈیم) بھی بنائے جا رہے ہیں تاکہ بیور کو ان علاقوں کی طرف راغب کیا جا سکے اور وہ خود وہاں مستقل ڈیم تعمیر کریں۔
اگرچہ کچھ کسانوں اور زمینداروں کو ان ڈیموں سے مقامی سطح پر سیلاب کا خدشہ رہتا ہے، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تنازع کو حل کرنا، پانی کی مستقل قلت سے لڑنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستا اور مؤثر ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے اس دور میں جب روایتی آبی انفراسٹرکچر ناکام ہو رہا ہے، حل شاید اتنا ہی سادہ ہے جتنا کہ اس چھوٹے سے جانور کو اپنا کام کرنے دینا۔ یہ حکمت عملی خشک سالی کا مکمل خاتمہ تو نہیں کرے گی، مگر اس کے ساتھ جینے کا سب سے مؤثر طریقہ ضرور ثابت ہو رہی ہے۔
