پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین گوہر علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان ملکی تاریخ کے پہلے سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں جو اپنی چیئرمین شپ کے دوران مسلسل تین برس سے قید میں ہیں۔
گوہر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک قانونی لڑائی نہیں بلکہ ملکی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا انوکھا باب ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ سابق وزیراعظم اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ توشہ خانہ کیس میں سزا کے بعد سے اب تک ان کی قانونی مشکلات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ انہیں کئی مقدمات میں ضمانتیں مل چکی ہیں، لیکن ہر بار کسی نئے مقدمے کا اندراج انہیں جیل سے باہر آنے سے روک دیتا ہے۔
یہ دعویٰ پی ٹی آئی کے اس بیانیے کو مزید تقویت دیتا ہے کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پارٹی کارکنوں کے لیے تین سال کا یہ عرصہ ایک جذباتی اور سیاسی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریاستی دباؤ کے باوجود پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ اپنی جگہ موجود ہے۔
دوسری جانب، قانونی ماہرین ان مقدمات کی پیچیدگی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ سائفر کیس سے لے کر القادر ٹرسٹ اور عدت نکاح کیس تک، عمران خان کو ایک ساتھ متعدد محاذوں پر قانونی جنگ لڑنا پڑی ہے۔ ہر بار جب ایسا لگتا ہے کہ رہائی کا امکان پیدا ہو گیا ہے، نئے وارنٹ جاری ہو جاتے ہیں جس سے قید کا تسلسل ٹوٹنے نہیں پاتا۔
حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ تمام کارروائیاں خالصتاً عدالتی ہیں اور ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ وزارت داخلہ کے حکام بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ قانون اپنا راستہ خود طے کرتا ہے اور سیاسی انجینئرنگ کے الزامات بے بنیاد ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں رہنماؤں نے جیلیں بھی کاٹی ہیں، جلاوطنی بھی دیکھی ہے اور نااہلی کا سامنا بھی کیا ہے، لیکن عمران خان کا معاملہ منفرد ہے۔ وہ جیل کے اندر سے نہ صرف پارٹی کے معاملات پر گرفت مضبوط رکھے ہوئے ہیں بلکہ ان کی مقبولیت کا گراف بھی ایک الگ چیلنج بنا ہوا ہے۔
قانونی تعطل برقرار ہے اور پی ٹی آئی اب اپنی توجہ عوامی رابطے اور عالمی سطح پر وکالت پر مرکوز کر رہی ہے۔ پارٹی قیادت کا اصرار ہے کہ یہ مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں۔ اب سب کی نظریں عدالتوں پر ہیں کہ آیا عمران خان کو مطلوبہ ریلیف مل پائے گا یا نہیں۔
فی الحال، سابق وزیراعظم اڈیالہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ ان کے حامی اسے مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین اسے ان کے دورِ حکومت کے فیصلوں کا منطقی انجام مانتے ہیں۔
