سندھ حکومت نے کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک میں 1000 نئی الیکٹرک بسیں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہر کے دہائیوں پرانے اور خستہ حال ٹرانسپورٹ نظام کو جدید بنانا اور سڑکوں پر دوڑتی دھواں چھوڑتی منی بسوں سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی میں کمی لانا ہے۔
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن نے تصدیق کی ہے کہ بسوں کی خریداری کا عمل اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا جائے گا، جس میں حکومت انفراسٹرکچر فراہم کرے گی جبکہ نجی آپریٹرز روزمرہ کے معاملات اور بسیں چلانے کے ذمہ دار ہوں گے۔
کراچی کے شہری ایک طویل عرصے سے غیر محفوظ اور غیر منظم نجی منی بسوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ نئی ای وی بسیں اس کے برعکس ایک جدید تجربہ فراہم کریں گی: ایئر کنڈیشنڈ کیبنز، بیٹھنے کی نشستوں کا باقاعدہ نظام اور سب سے اہم بات یہ کہ ان سے زہریلا دھواں خارج نہیں ہوگا۔
اس منصوبے کے سامنے سب سے بڑا چیلنج بجلی کی فراہمی اور چارجنگ نیٹ ورک ہے۔ حکام اس وقت شاہراہِ فیصل اور کورنگی انڈسٹریل ایریا جیسے مصروف ترین علاقوں میں چارجنگ اسٹیشنز کے لیے جگہوں کا تعین کر رہے ہیں۔ اگر شہر میں لوڈ شیڈنگ کے مسائل برقرار رہے اور بجلی کا متبادل انتظام نہ ہوا، تو یہ بسیں سڑکوں پر چلنے کے بجائے ڈپوز میں کھڑی رہ جائیں گی۔
معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ الیکٹرک بسوں کی ابتدائی قیمت ڈیزل بسوں سے زیادہ ہے، لیکن طویل مدت میں ان کے چلانے کا خرچہ بہت کم ہوگا۔ ایندھن کی بچت سے ہونے والا فائدہ کرایوں کو مستحکم رکھنے میں مدد دے گا، جو مہنگائی کے ستائے شہریوں کے لیے ایک بڑی ریلیف ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، سیاسی حلقوں اور ماہرین نے منصوبے کی ٹائم لائن پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ماضی میں بھی ایسے کئی اعلانات بیوروکریسی کی سستی اور فنڈز کی کمی کی وجہ سے ادھورے رہ گئے ہیں۔ دو کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کے لیے اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ کیا حکومت بسوں کی آمد سے پہلے چارجنگ کا ڈھانچہ تیار کر پائے گی یا نہیں۔
بسوں کی پہلی کھیپ اگلے چھ ماہ کے اندر کراچی پہنچنے کی توقع ہے۔ اگر یہ منصوبہ وقت پر شروع ہو گیا تو گرین لائن بی آر ٹی کے بعد یہ کراچی کی ٹرانسپورٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی بہتری ہوگی۔
تاہم، اصل امتحان ان بسوں کی دیکھ بھال کا ہے۔ کراچی کی سڑکوں کی ابتر صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور ماضی میں کئی سرکاری ٹرانسپورٹ منصوبے دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے کباڑ خانوں کی نذر ہو چکے ہیں۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس بار آپریٹرز کے ساتھ طویل مدتی دیکھ بھال کے سخت معاہدے کیے گئے ہیں تاکہ یہ قیمتی گاڑیاں سڑکوں سے غائب نہ ہوں۔
