مظفر آباد — آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کو بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں سخت سیاسی چیلنج کا سامنا ہے۔ ابتدائی غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق وزیر اعظم کے حلقے میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو برتری حاصل ہے، جس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
یہ ووٹنگ موجودہ انتظامیہ کی عوامی مقبولیت کا امتحان سمجھی جا رہی تھی۔ ابتدائی رجحانات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے حامیوں نے اہم حلقوں میں جشن منانا شروع کر دیا ہے، جو خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی سمت کا واضح اشارہ ہے۔
وزیر اعظم پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع اس صورتحال کو "غیر متوقع” قرار دے رہے ہیں، تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج حکومتی اتحادیوں کی صفوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی کا عکاس ہیں۔ اگر یہ رجحان حتمی نتائج میں بھی برقرار رہتا ہے تو موجودہ قیادت کو اپنی علاقائی گرفت برقرار رکھنے کے لیے مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
الیکشن کمیشن کے حکام نے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولنگ اسٹیشنوں سے موصول ہونے والے نتائج کی تصدیق کا عمل جاری ہے، تاہم مسلم لیگ (ن) کی ابتدائی برتری محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ مقامی گورننس اور معاشی پالیسیوں سے ووٹرز کی ناراضگی کی عکاس ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ترقیاتی کاموں میں تاخیر ووٹرز کے مزاج کو تبدیل کرنے والی بنیادی وجوہات ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدے اور زمینی حقائق کے درمیان وسیع خلیج نے ووٹر کو روایتی سیاست سے دور کر دیا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن نے اس رفتار کو اپنے حق میں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ یہ نتائج "تبدیلی کا واضح مینڈیٹ” ہیں، حالانکہ حتمی سرکاری نتائج کا اعلان الیکشن کمیشن کی جانب سے ہونا ابھی باقی ہے۔
انتخابی نتائج کا حتمی اعلان یہ طے کرے گا کہ وزیر اعظم اپنی سیاسی پوزیشن بچا پاتے ہیں یا انہیں اپنی علاقائی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی لانا پڑے گی۔ فی الحال مظفر آباد کی گلیوں میں کشیدگی برقرار ہے اور حتمی نتائج کے انتظار میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔
