پاکستان کے محکمہ موسمیات نے 24 جولائی سے 28 جولائی تک ملک بھر میں موسلا دھار بارشوں اور طوفان کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ پیشگوئی کے مطابق، بحیرہ عرب سے آنے والی مرطوب ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، جس کے باعث بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ اور پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق بارشوں کا یہ سلسلہ ملک کے بیشتر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا، جس کے دوران نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خطرہ ہے۔ "ہم ملک بھر میں تیز بارشوں کی توقع کر رہے ہیں، خاص طور پر شہری آبادیوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے،” ترجمان نے خبردار کیا۔
اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور پشاور کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان شہروں کا نکاسی آب کا نظام اکثر شدید بارشوں کے دوران ناکام ہو جاتا ہے، جس سے سڑکوں پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہونا معمول ہے۔ میونسپل اتھارٹیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ برساتی نالوں کی صفائی کو یقینی بنائیں تاکہ پانی کے جمع ہونے کے مسئلے سے بچا جا سکے۔
شمالی علاقہ جات میں صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔ مری، گلیات، مانسہرہ اور آزاد کشمیر میں موسلا دھار بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، جس سے اہم شاہراہیں بند ہو سکتی ہیں۔ سیاحوں اور مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اگلے پانچ دنوں کے دوران پہاڑی علاقوں کا رخ کرنے سے قبل موسم کی صورتحال کا جائزہ ضرور لیں۔
ادھر جنوبی پنجاب اور سندھ کے کاشتکاروں کے لیے یہ بارشیں جہاں فصلوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں، وہیں شدید بارشوں سے کھیتوں میں پانی کھڑا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے صوبائی محکموں کے ساتھ مل کر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امدادی ٹیمیں اور مشینری حساس علاقوں میں تعینات کر دی ہے۔
اگرچہ مون سون کی یہ بارشیں شدید گرمی کے ستائے شہریوں کے لیے کسی حد تک ریلیف کا باعث بنیں گی، تاہم محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ پانچ روزہ دورانیہ معمول سے زیادہ غیر مستحکم موسم کا حامل ہوگا۔ جمعرات سے ہفتے کے دوران بارشوں کی شدت اپنے عروج پر ہوگی، جس کے دوران بجلی کی فراہمی میں تعطل اور سفری مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
