پنجاب کے محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے ایک وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی اینٹی بائیوٹک دوا کو فوری طور پر مارکیٹ سے واپس منگوانے کا حکم دے دیا۔ منگل کی رات جاری ہونے والی یہ ہدایت ان مخصوص بیچز کے خلاف ہے جو لیبارٹری ٹیسٹ میں کوالٹی کنٹرول کے معیار پر پورا نہیں اترے۔
یہ اقدام صوبائی ہیلتھ انسپکٹرز کی جانب سے ریجنل فارمیسیوں کے اچانک معائنے کے دوران سامنے آیا۔ ٹیسٹ کے نتائج میں دوا کے اندر ایسے ذرات کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جو مریضوں، خاص طور پر بچوں کے لیے سنگین طبی خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔
محکمہ صحت نے ڈسٹری بیوٹرز کو فوری طور پر فروخت روکنے کا پابند کیا ہے۔ صوبے بھر کے فارماسسٹس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ سٹاک فوری طور پر شیلف سے ہٹا کر سپلائرز کو واپس کریں۔
صوبائی محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے پریس بریفنگ کے دوران کہا، "ہم مریضوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ نوٹیفکیشن کے بعد جو بھی دکاندار یہ مخصوص بیچ فروخت کرتا پایا گیا، اس کا لائسنس معطل کر کے قانونی کارروائی کی جائے گی۔”
حکام نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا ان مخصوص بیچز کے استعمال سے کوئی منفی طبی ردعمل سامنے آیا ہے۔ تاہم، یہ کارروائی نجی مارکیٹ میں غیر معیاری ادویات کی شکایات کے بعد فارماسیوٹیکل معیار پر سخت گرفت کا حصہ ہے۔
جو مریض اس وقت یہ دوا استعمال کر رہے ہیں، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسے فوراً روک دیں اور متبادل کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ محکمہ صحت نے اپنی ویب سائٹ پر متاثرہ بیچ نمبرز کی فہرست جاری کر دی ہے، اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دوا کے لیبل کو اس فہرست سے ضرور چیک کریں۔
صحت کے ریگولیٹرز رواں ہفتے کے آخر تک مینوفیکچرنگ میں کوتاہیوں پر مکمل رپورٹ جاری کریں گے۔ فی الحال، تمام تر توجہ سپلائی چین سے متاثرہ دوا کے خاتمے پر مرکوز ہے۔
