بھارت کی لوک سبھا ایک ایسی آئینی ترمیم منظور نہ کر سکی جو خواتین کے لیے 33 فیصد نشستوں ے کوٹے سے جڑی ہوئی تھی، کیونکہ اسے حلقہ بندی اور نشستوں میں اضافے کے متنازع منصوبے کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔ اس بل کے لیے دو تہائی اکثریت درکار تھی، مگر اپوزیشن نے اسے روک دیا۔
رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے تحت لوک سبھا کی نشستیں 543 سے بڑھا کر تقریباً 850 کرنے کی بات تھی، اور ساتھ ہی خواتین کا کوٹہ نافذ کرنا تھا۔ اصل اختلاف خواتین کی نمائندگی پر نہیں بلکہ نئی حلقہ بندی پر تھا، جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا تھا کہ اس سے شمالی ریاستوں اور حکمراں جماعت بی جے پی کو فائدہ ہو سکتا ہے جبکہ جنوبی ریاستوں کا اثر کم ہو سکتا ہے۔
یہ خبر اس لیے اہم ہے کیونکہ بھارت نے 2023 میں خواتین کے ریزرویشن کا قانون پہلے ہی منظور کر لیا تھا، مگر اس کا نفاذ حلقہ بندی کے بعد ہونا تھا۔ 2026 کا یہ ناکام بل اسی عمل کو تیز کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا تھا، لیکن سیاسی اختلافات کی وجہ سے منظور نہ ہو سکا۔
