کراچی یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر سید غفران عالم، ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر زاہد حسین بلوچ، اور آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر فیصل ہاشمی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔
کراچی (اسٹاف رپورٹر): جامعہ کراچی میں جاری مالی اور انتظامی بحران کے خلاف کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی (KUTS)، ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن اور آفیسرز ایسوسی ایشن کے مشترکہ پلیٹ فارم کے تحت چائنیز میموریل آڈیٹوریم میں ہنگامی پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ پریس کانفرنس میں جامعہ کی موجودہ صورتحال، احتجاجی تحریک، امتحانات کے بائیکاٹ اور جامعہ کی ممکنہ بندش سے متعلق تفصیلی مؤقف پیش کیا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ جامعہ کراچی گزشتہ کئی برسوں سے شدید مالی بحران کا شکار ہے جبکہ موجودہ انتظامیہ کی ناقص پالیسیوں نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ نے اساتذہ، ملازمین اور آفیسرز کے تحفظات دور کرنے کے بجائے یکطرفہ فیصلے کیے، جس کے باعث تدریسی اور انتظامی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
اساتذہ نمائندوں کا کہنا تھا کہ جامعہ میں 21 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں اور بدانتظامی کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق احتجاج کا مقصد جامعہ کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ادارے کو تباہی سے بچانا ہے۔
پریس کانفرنس میں انتظامیہ پر غیر ضروری اخراجات، مبینہ غیر قانونی بھرتیوں، مہنگے منصوبوں اور وسائل کے غلط استعمال کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ مقررین نے کہا کہ جامعہ میں نئے شعبے اور پروگرام تو شروع کیے گئے مگر ان کے لیے مطلوبہ وسائل اور بنیادی ڈھانچہ فراہم نہیں کیا گیا، جس کے باعث تعلیمی معیار متاثر ہوا۔
رہنماؤں نے بتایا کہ جامعہ کراچی کے اساتذہ، ملازمین اور آفیسرز گزشتہ ایک ہفتے سے احتجاجی تحریک چلا رہے ہیں اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے حکومت سندھ، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے جامعہ کراچی کو مالی بحران سے نکالنے اور شفاف احتساب کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر کہا گیا کہ اگر مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔ تاہم جامعہ کے مفاد اور طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں۔
