ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ، 17 اپریل 2026 کو کہا کہ آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے “مکمل طور پر کھلی” ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جنگی کشیدگی، جہاز رانی کے خطرات اور تیل کی ترسیل کے بارے میں شدید بے چینی پائی جا رہی تھی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور الجزیرہ کے مطابق ایران نے اس اعلان کو لبنان میں جاری 10 روزہ جنگ بندی کے تناظر میں پیش کیا۔
اس خبر کی اہمیت اس لیے بہت زیادہ ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ وہ تنگ آبی گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ حالیہ بحران کے دوران اس راستے کی صورتحال نے عالمی منڈیوں، شپنگ کمپنیوں، بیمہ اداروں اور حکومتوں سب کو پریشان رکھا۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے اس اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ منڈیاں اب بھی اس راستے کی خبر پر فوری ردِعمل دیتی ہیں۔
البتہ ایران کے بیان میں ایک اہم شرط بھی شامل ہے۔ مختلف رپورٹوں کے مطابق تہران نے کہا کہ تجارتی جہاز ایرانی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کے پہلے سے مقرر کردہ “coordinated route” کے تحت گزر سکتے ہیں۔ یعنی بظاہر راستہ کھلا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ حالات مکمل طور پر پرانے معمول پر آ گئے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق شپنگ انڈسٹری کے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اعلان کے باوجود اب بھی عملی وضاحت کم ہے، خاص طور پر اس بارے میں کہ گزرنے والے جہازوں کے لیے مزید کیا شرائط ہوں گی۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے سرکاری بیان میں بھی یہی مؤقف سامنے آیا کہ آبنائے ہرمز بند نہیں تھی، بلکہ اصل رکاوٹ جنگی حالات اور بیمہ کمپنیوں کا خوف تھا۔ سرکاری ویب سائٹ پر شائع بیان میں عراقچی نے کہا کہ جہاز اس لیے ہچکچا رہے تھے کیونکہ بیمہ کار جنگ کے خطرات سے پریشان تھے، نہ کہ اس لیے کہ ایران نے راستہ رسمی طور پر بند کر دیا تھا۔
سیاسی طور پر دیکھا جائے تو یہ اعلان دو پیغامات دیتا ہے۔ ایک طرف ایران دنیا کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ اہم عالمی تجارتی راستے کو کھلا رکھنے کی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا اثر و رسوخ بدستور بہت اہم ہے، اور اسی لیے یہ گزرگاہ اب صرف تجارتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ وسیع تر سفارتی اور عسکری کشمکش کا مرکزی حصہ بن چکی ہے۔ اے پی کے مطابق یورپی رہنما بھی اسی روز اس آبی راستے کی صورتحال پر بات چیت کر رہے تھے۔
یوں فوری خبر یہ ہے کہ ایران کہہ رہا ہے آبنائے ہرمز کھل گئی ہے۔ مگر بڑی تصویر اب بھی محتاط رہنے کا تقاضا کرتی ہے۔ جہاز رانی شاید دوبارہ شروع ہو، منڈیوں نے وقتی سکون کا اشارہ بھی دیا ہے، لیکن یہ بحالی ایک نازک جنگ بندی، ایرانی نگرانی والے راستے، اور غیر یقینی علاقائی ماحول کے اندر ہو رہی ہے۔ اس لیے “مکمل طور پر کھلی” کی اصطلاح سفارتی لحاظ سے درست ہو سکتی ہے، مگر تجارتی دنیا کے لیے اس کے عملی معنی ابھی بھی پوری طرح صاف نہیں ہوئے۔
