دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شامل آبنائے ہرمز جمعہ، 17 اپریل 2026 کو تجارتی جہازوں کے لیے “مکمل طور پر کھلی” قرار دی گئی، جب لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی نافذ ہوئی۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ بندی کے دوران کمرشل شپنگ جاری رہ سکے گی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یہی مؤقف دہرایا کہ یہ راستہ اب پوری طرح کھلا ہے۔
اس اعلان کا اثر فوراً عالمی منڈیوں میں دیکھا گیا۔ تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات میں کمی آنے پر خام تیل کی قیمتیں 10 فیصد سے زیادہ گر گئیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی خام تیل 81.28 ڈالر فی بیرل تک آیا، جبکہ برینٹ 89.13 ڈالر کے قریب پہنچ گیا۔ یہ کمی اس بات کا اشارہ تھی کہ سرمایہ کاروں نے کم از کم عارضی طور پر کشیدگی میں کمی کو سنجیدگی سے لیا۔
لیکن تصویر اتنی سادہ نہیں۔ آبنائے ہرمز کا کھلنا اس بات کی علامت نہیں کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑا تنازع ختم ہو گیا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران پر دباؤ برقرار ہے، اور ایرانی بندرگاہوں سے متعلق امریکی اقدامات بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف شپنگ روٹ کھلنے کی خبر آئی، دوسری طرف خطے میں فوجی اور سفارتی تناؤ بدستور موجود ہے۔
لبنان کی جنگ بندی بھی نازک دکھائی دے رہی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق 10 روزہ سیزفائر کے ابتدائی مرحلے میں اقوام متحدہ نے نئی فضائی بمباری ریکارڈ نہیں کی، اور جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں نسبتاً سکون دیکھا گیا۔ اس کے باوجود اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان میں موجودگی، فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کے الزامات، اور حزب اللہ کے آئندہ رویے سے متعلق سوالات اب بھی موجود ہیں۔ کچھ خاندان اپنے گھروں کی طرف لوٹنا شروع ہو گئے ہیں، مگر زمینی صورتِ حال اب بھی غیر یقینی ہے۔
اصل بات شاید یہی ہے: یہ مکمل امن نہیں، صرف درجۂ حرارت میں وقتی کمی ہے۔ ٹرمپ نے اسے لبنان کے لیے “تاریخی دن” قرار دیا، جبکہ مختلف سفارتی ذرائع اس جنگ بندی کو وسیع تر مذاکرات کی شروعات کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان ثالثی کے عمل میں کردار ادا کر رہا ہے، اور یورپی قیادت بھی آبنائے ہرمز اور خطے کی بحری سلامتی پر مشاورت کر رہی ہے۔ مگر ایران کے جوہری پروگرام، تیل کی نقل و حرکت کے تحفظ، جنگی نقصانات، اور حزب اللہ کے مستقبل جیسے بنیادی سوال ابھی حل طلب ہیں۔
سمندری تجارت کے شعبے میں بھی مکمل اطمینان پیدا نہیں ہوا۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق شپنگ انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اعلان میں ابھی اتنی وضاحت نہیں کہ بحری کمپنیاں پوری اعتماد کے ساتھ آپریشن معمول پر لے آئیں۔ خاص طور پر یہ سوال باقی ہے کہ ایران جہازوں کے لیے کس روٹ پر اصرار کرے گا اور کیا مزید شرائط عائد کی جائیں گی۔ یعنی کاغذ پر راستہ کھل جانا اور عملی طور پر مکمل تجارتی بحالی، دونوں ایک ہی بات نہیں۔
جمعہ کا دن بلاشبہ ایک اہم موڑ لے کر آیا۔ آبنائے ہرمز کھلی، تیل کی قیمتیں گریں، اور لبنان میں جنگ بندی نے ابتدائی طور پر سانس لینے کا موقع دیا۔ مگر مشرقِ وسطیٰ کی اس کشیدہ کہانی میں یہ آخری باب نہیں۔ فی الحال اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ خطرہ کچھ کم ہوا ہے، ختم نہیں ہوا۔
