غزہ میں ایک ماں کی زندگی اب ایک ایسے انتظار میں بدل چکی ہے جس کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا۔ اس کے تین بیٹے اسرائیلی حراست میں ہونے کے بارے میں بتایا جاتا ہے، مگر خاندان کو اب تک یہ واضح نہیں کہ وہ کہاں ہیں، کس حال میں ہیں، اور آیا ان سے دوبارہ ملاقات ممکن بھی ہوگی یا نہیں۔ یہی بے یقینی اس کہانی کا اصل مرکز ہے، اور یہی کیفیت بہت سے دوسرے فلسطینی خاندان بھی جھیل رہے ہیں جن کے عزیز جنگ کے دوران حراست یا گمشدگی کے اندھیرے میں چلے گئے۔
حالیہ رپورٹنگ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ غزہ کے بہت سے خاندانوں کے لیے اصل اذیت صرف گرفتاری نہیں، بلکہ اطلاعات کا خلا ہے۔ کئی گھرانوں کو نہ باضابطہ اطلاع ملتی ہے، نہ قابلِ اعتماد تصدیق، اور نہ ہی یہ معلوم ہو پاتا ہے کہ ان کے پیارے زندہ ہیں، زخمی ہیں، دوسری جگہ منتقل کیے گئے ہیں یا مر چکے ہیں۔ الجزیرہ نے جنوری کی ایک رپورٹ میں اسی صورتِ حال کو ایک ایسے خلا کے طور پر بیان کیا جس میں خاندان امید اور خوف کے درمیان معلق رہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس ماں کی کہانی محض تین قید بیٹوں کی خبر نہیں رہتی، بلکہ ایک بڑے انسانی المیے کی علامت بن جاتی ہے۔ جب حراست کے ساتھ شفافیت نہ ہو، تو جیل کی دیواروں سے باہر بھی سزا پھیل جاتی ہے۔ گھر کے اندر، پناہ گاہ میں، روزمرہ کی زندگی میں — ہر جگہ ایک ہی سوال منڈلاتا رہتا ہے: آخر وہ ہیں کہاں؟ اس کیفیت کو حالیہ رپورٹنگ میں ایک طرح کی نفسیاتی اذیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جہاں خبر نہ ملنا خود ایک مستقل عذاب بن جاتا ہے۔
اس خوف کی ایک بڑی وجہ انسانی رسائی کا بند ہونا بھی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کو غزہ سے پکڑے گئے قیدیوں تک رسائی نہیں دی گئی، جس کی وجہ سے خاندانوں کے پاس وہ غیر جانب دار راستہ بھی باقی نہیں رہا جس سے عام حالات میں کم از کم تصدیق یا رابطے کی کوئی امید ہوتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ رشتہ دار افواہوں، غیر رسمی فہرستوں اور رہائی پانے والے قیدیوں کے ٹکڑوں میں ملنے والے بیانات پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اس کہانی کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک گھر تک محدود نہیں۔ مارچ کے آخر میں شائع ہونے والی ایک اور الجزیرہ رپورٹ میں ایک دوسری غزہ ماں، تحریر ابو ماضی، کی حالت بیان کی گئی، جس کے پاس اپنی بیٹی ملک کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی ہے، مگر ایک قیدیوں کی فہرست یہ اشارہ دیتی ہے کہ شاید وہ ماری نہیں گئی بلکہ گرفتار ہوئی تھی۔ ایسے متضاد اشارے یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ غزہ کی بہت سی ماؤں کے لیے غم اب سیدھا، واضح یا مکمل نہیں رہا؛ وہ سوگ اور امید کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہیں۔
اسی لیے “جواب کے بغیر انتظار” محض ایک جذباتی جملہ نہیں، بلکہ ایک پوری حقیقت ہے۔ غزہ کی اس ماں کے لیے اپنے تین بیٹوں کا خوف صرف قید کا خوف نہیں، بلکہ خاموشی، بے خبری اور بے بسی کا خوف بھی ہے۔ اور شاید یہی اس خبر کی سب سے بھاری بات ہے: بعض اوقات جنگ میں سب سے بڑا زخم وہ نہیں ہوتا جو نظر آ جائے، بلکہ وہ ہوتا ہے جس کے بارے میں کوئی کچھ بتاتا ہی نہیں۔
