آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے کرکٹ کینیڈا سے جڑے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، اور جن مقابلوں پر خاص توجہ دی جا رہی ہے ان میں کینیڈا اور نیوزی لینڈ کے درمیان 17 فروری 2026 کو چنئی میں کھیلا گیا ٹی20 ورلڈ کپ میچ بھی شامل ہے۔ اس میچ میں نیوزی لینڈ نے کینیڈا کو آٹھ وکٹوں سے شکست دی تھی۔
رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب کینیڈا میں نشر ہونے والی ایک دستاویزی رپورٹ میں کرکٹ کینیڈا کے اندر مبینہ بدعنوانی اور گورننس سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔ انہی دعوؤں کے بعد آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے معاملے کا جائزہ لینا شروع کیا، اور توجہ خاص طور پر کینیڈا کے کپتان دلپریت باجوا کے ایک اوور پر مرکوز ہوئی۔ تاہم اس مرحلے پر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ تحقیقات شروع ہونا جرم ثابت ہونے کے برابر نہیں، اور آئی سی سی کی جانب سے ابھی تک کسی فرد پر باضابطہ الزام عائد نہیں کیا گیا۔
میچ کا ریکارڈ اپنی جگہ واضح ہے۔ کینیڈا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 4 وکٹوں کے نقصان پر 173 رنز بنائے، جس میں یوراج سمرا کی 110 رنز کی شاندار اننگز نمایاں رہی، جبکہ دلپریت باجوا نے 39 گیندوں پر 36 رنز اسکور کیے۔ جواب میں نیوزی لینڈ نے 15.1 اوورز میں 2 وکٹوں پر 176 رنز بنا کر ہدف حاصل کر لیا۔ گلین فلپس نے 36 گیندوں پر ناقابلِ شکست 76 رنز بنائے، جبکہ رچن روندرا 59 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
دلپریت باجوا نے نیوزی لینڈ کی اننگز میں دو اوورز کرائے اور 26 رنز دیے۔ اب انہی اوورز میں سے ایک کو دستاویزی رپورٹ میں اٹھائے گئے الزامات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ابھی تک کوئی ایسا باضابطہ ثبوت سامنے نہیں آیا جو عوامی سطح پر میچ فکسنگ ثابت کرے، لیکن اینٹی کرپشن تحقیقات عموماً اسی مرحلے سے شروع ہوتی ہیں، جہاں اسکور کارڈ سے زیادہ اہم بات پس منظر اور ممکنہ روابط ہوتے ہیں۔
اس معاملے کا ایک بڑا پہلو یہ بھی ہے کہ سوالات صرف ایک میچ تک محدود نہیں دکھائی دیتے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقات کا دائرہ کرکٹ کینیڈا کے اندرونی نظم و نسق اور وسیع تر الزامات تک بھی پھیل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خبر محض ایک متنازع اوور یا ایک غیر معمولی نتیجے کی کہانی نہیں رہی، بلکہ اب یہ کینیڈین کرکٹ کے ادارہ جاتی اعتبار پر بھی سوال اٹھا رہی ہے۔
آئی سی سی کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کیونکہ ٹی20 کرکٹ کو طویل عرصے سے بدعنوانی کے خدشات کے اعتبار سے نسبتاً زیادہ نازک فارمیٹ سمجھا جاتا ہے۔ مختصر فارمیٹ، تیز رفتار موڑ، اور بیٹنگ مارکیٹس کی موجودگی اینٹی کرپشن نگرانی کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔ آئی سی سی کے مطابق اس کا اینٹی کرپشن نظام کھیل کو بدعنوانی سے محفوظ رکھنے، مشتبہ سرگرمیوں کی جانچ کرنے، اور ممکنہ ضابطہ خلاف ورزیوں پر کارروائی کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
اب اگلا مرحلہ شواہد کا ہے۔ اینٹی کرپشن یونٹ عموماً خاموشی سے کام کرتا ہے اور ایسی تحقیقات میں وقت لگ سکتا ہے، کیونکہ اس میں میچ فوٹیج، رابطوں کا ریکارڈ، ممکنہ بیٹنگ پیٹرنز، اور متعلقہ افراد کے بیانات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ فی الحال اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ نیوزی لینڈ کی یہ بظاہر معمول کی فتح اب ایک بڑے سوال کے سائے میں آ چکی ہے، اور آئی سی سی کے لیے اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانا کھیل کی ساکھ کے لیے ضروری ہو گیا ہے۔
