اوسلو: ناروے کی ٹیم تقریباً تین دہائیوں بعد فیفا ورلڈ کپ میں واپس آ رہی ہے، اور اس بار اس کی امیدوں کا مرکز دو بڑے نام ہیں: ایرلنگ ہالینڈ اور مارٹن اوڈیگارڈ۔
ناروے نے ورلڈ کپ 2026 کے لیے اپنے 26 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں مانچسٹر سٹی کے اسٹار اسٹرائیکر ہالینڈ اور آرسنل کے کپتان اوڈیگارڈ نمایاں ترین کھلاڑی ہیں۔ ناروے کے بادشاہ ہارلڈ پنجم بھی اسکواڈ کے اعلان کی ویڈیو میں نظر آئے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کے لیے یہ واپسی کتنی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔
ناروے نے آخری بار 1998 میں ورلڈ کپ کھیلا تھا۔ اس کے بعد کئی بار امیدیں بندھیں، اچھے کھلاڑی بھی سامنے آئے، مگر ٹیم عالمی کپ تک نہ پہنچ سکی۔ اب 28 سال کے طویل انتظار کے بعد ناروے ایک بار پھر فٹبال کے سب سے بڑے اسٹیج پر موجود ہوگا۔
اس واپسی کی سب سے بڑی وجہ ہالینڈ کی غیر معمولی فارم ہے۔ انہوں نے کوالیفائنگ مرحلے میں آٹھ میچوں میں 16 گول کیے اور ہر میچ میں گول اسکور کیا۔ اٹلی کے خلاف 4-1 کی اہم کامیابی میں بھی ہالینڈ نے دو گول کیے، جس نے ناروے کی مہم کو ایک نئی پہچان دی۔
اوڈیگارڈ کا کردار بھی کم اہم نہیں۔ وہ ناروے کے کپتان ہیں اور مڈفیلڈ میں ٹیم کے کھیل کو ترتیب دیتے ہیں۔ ان کی پاسنگ، فیصلہ سازی اور دباؤ میں سکون ناروے کے لیے خاص طور پر اہم ہوگا، کیونکہ ورلڈ کپ میں اسے مضبوط ٹیموں کے خلاف مشکل لمحات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ناروے نے کوالیفائنگ مرحلہ شاندار انداز میں مکمل کیا۔ ٹیم نے آٹھ میں سے آٹھ میچ جیتے، مجموعی طور پر 37 گول کیے اور صرف پانچ گول کھائے۔ اٹلی کے خلاف دونوں کامیابیاں اس مہم کا سب سے نمایاں پہلو رہیں۔
تاہم ورلڈ کپ میں راستہ آسان نہیں ہوگا۔ ناروے کو گروپ آئی میں فرانس، سینیگال اور عراق کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ فرانس عالمی فٹبال کی بڑی قوت ہے، سینیگال حالیہ برسوں میں ایک مضبوط اور منظم ٹیم کے طور پر سامنے آیا ہے، جبکہ عراق بھی اس موقع کو بڑا اپ سیٹ کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہے گا۔
اسکواڈ میں گول کیپر کے انتخاب نے بھی توجہ حاصل کی ہے۔ سینڈر ٹنگوِک کو سینئر سطح پر کوئی بین الاقوامی میچ کھیلے بغیر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ میتھیاس ڈینگی لینڈ کی انجری اور نیکیتا ہائکن کی شہریت تبدیلی سے متعلق معاملہ مسترد ہونے کے بعد کیا گیا۔
ہالینڈ اور اوڈیگارڈ کے علاوہ ناروے کے پاس الیگزینڈر سورلوتھ اور انتونیو نوسا جیسے کھلاڑی بھی موجود ہیں، جو ٹیم کے حملے کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ سورلوتھ جسمانی طاقت اور گول اسکورنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ نوسا اپنی رفتار اور ڈرِبلنگ سے دفاعی لائنوں کے لیے مسئلہ بن سکتے ہیں۔
ناروے کے شائقین کے لیے یہ صرف ایک ٹورنامنٹ نہیں، بلکہ ایک نسل کا انتظار ہے۔ بہت سے نوجوان فینز نے اپنی ٹیم کو کبھی ورلڈ کپ میں کھیلتے نہیں دیکھا۔ دوسری جانب پرانے شائقین 1998 کی یادیں ساتھ لیے اس واپسی کو ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
