امریکہ کے مختلف حصوں میں منگل کی رات اچانک آسمان ایک تیز اور چمکدار روشنی سے جگمگا اٹھا، جس نے شہریوں کو خوف اور حیرت میں مبتلا کر دیا۔ یہ ایک ’بولائیڈ‘ تھا—یعنی ایک ایسا شہابِ ثاقب جو زمین کی فضا میں داخل ہو کر زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔ امریکن میٹر سوسائٹی کے ٹریکنگ پورٹل پر چند منٹوں کے اندر ہزاروں شہریوں نے اس واقعے کی اطلاع دی، جن کا تعلق مڈ ویسٹ سے لے کر مشرقی ساحلی علاقوں تک تھا۔
یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے گیارہ بجے پیش آیا۔ سیکیورٹی کیمروں اور ڈیش کیمز میں قید ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک تیز رفتار برقی نیلی روشنی آسمان کو چیرتی ہوئی نیچے آئی اور پھر کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ یہ صرف ایک روشنی نہیں تھی، اس نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
اوہائیو میں ہائی وے پر موجود مارک ہینڈرسن نے بتایا، "یہ پہلے ایک فلیئر کی طرح لگا، پھر ایک دم سفید روشنی میں بدل گیا جو دھڑکتی ہوئی محسوس ہوئی۔ میں سمجھا شاید کوئی طیارہ گر رہا ہے، لیکن پھر اس کے رنگ بدلنے لگے۔”
ماہرینِ فلکیات کے مطابق، شہابِ ثاقب کا گرنا معمول کی بات ہے، لیکن اس واقعے کی شدت غیر معمولی تھی۔ عام طور پر خلا سے آنے والے چھوٹے پتھر فضا میں ہی جل کر راکھ ہو جاتے ہیں، مگر اس بار یہ ٹکڑا کافی بڑا تھا جو فضا کی نچلی تہوں تک پہنچ گیا۔ کم از کم تین ریاستوں کے مکینوں نے ایک دھماکے جیسی آواز سننے کی بھی تصدیق کی ہے۔
نیشنل ویدر سروس کے ریڈار سسٹم نے بھی فضا میں موجود ملبے کے نشانات کو ریکارڈ کیا ہے، جس سے اس کے راستے کا تعین کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس کا زیادہ تر حصہ زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی ہوا میں بخارات بن کر اڑ چکا ہوگا۔
اس واقعے کی خاص بات اس کی روشنی کا رنگ تھا۔ میگنیشیم سے بھرپور شہابِ ثاقب جلتے وقت نیلی یا سبز رنگت خارج کرتے ہیں، جو عام سیٹلائٹس سے کہیں زیادہ روشن ہوتی ہے۔
فی الحال محققین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس کا کوئی ٹھوس ٹکڑا زمین پر گرا ہے یا نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ایک وسیع علاقے میں پھیلا ہو سکتا ہے۔ تب تک، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ ویڈیوز ہی اس لمحے کا واحد ثبوت ہیں جب رات کے اندھیرے میں اچانک دوپہر جیسی روشنی پھیل گئی تھی۔
