پیرس — یورپ بھر میں جاری شدید گرمی کی لہر کے پیشِ نظر فرانس نے عوامی مقامات پر شراب نوشی پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ حکام نے ‘وار’ سمیت ملک کے جنوبی حصوں میں کھلی جگہوں پر شراب کی فروخت اور رات کے اوقات میں اس کے استعمال پر عارضی پابندی لگائی ہے، جس کا مقصد ہنگامی صورتحال کو قابو میں رکھنا اور ہیٹ اسٹروک کے خطرات کو کم کرنا ہے۔
یہ اقدام محض نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے نہیں ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی میں الکحل کا استعمال جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کو تیزی سے بڑھاتا ہے اور جسم کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ کئی علاقوں میں پارہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے، جس کے بعد ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
فرانسیسی حکومت نے مقامی انتظامیہ کو یہ اختیارات دیے ہیں کہ وہ ضرورت پڑنے پر ان پابندیوں کو مزید سخت کر سکیں۔ اس کا مقصد دوپہر کے اوقات میں عوامی مقامات اور پارکوں میں ہجوم کو کم کرنا ہے۔ یہ فیصلہ فرانسیسی ثقافت کے اس معمول کے برعکس ہے جہاں گرمیوں میں کیفے اور کھلی جگہیں لوگوں سے بھری رہتی ہیں۔
شمالی افریقہ سے آنے والی گرم ہواؤں کے دباؤ کے باعث پڑوسی ممالک بھی شدید متاثر ہیں۔ اٹلی اور اسپین میں بھی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ اٹلی میں ‘چیرون’نامی اینٹی سائیکلون کے باعث سسلی اور سارڈینیا میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے، جس سے وہاں کا بجلی کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ جولائی کے وسط میں گرمی کی یہ شدت تشویشناک ہے اور یہ آنے والے دنوں میں زراعت اور شہری انفراسٹرکچر کے لیے مزید مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
برسلز میں موجود ایک ماحولیاتی پالیسی مشیر کا کہنا ہے کہ "ہم ایک ایسی موسمیاتی حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں جو ہماری شہری منصوبہ بندی سے کہیں زیادہ تیز ہے۔ یہ صرف ایک موسم نہیں بلکہ ہمارے طرزِ زندگی پر ایک بڑا بوجھ ہے۔”
حکومتوں نے شہریوں کے لیے ٹھنڈے مراکزکھول دیے ہیں اور عوامی سوئمنگ پولز کے اوقات میں توسیع کر دی گئی ہے۔ تاہم، حکام کی طرف سے شہریوں کو واضح ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھروں کے اندر رہیں، پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں، اور اس شدید گرمی میں باہر نکلنے سے گریز کریں۔
