برسلز: یورپ 2031 کے عنوان سے شائع ہونے والی ایک قیاسی رپورٹ نے یورپی یونین کے پالیسی ساز حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ میں ایک ایسا ممکنہ منظرنامہ پیش کیا گیا ہے جس میں یورپ مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکا سے بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔
برسلز میں قائم ایک تھنک ٹینک کی جانب سے تیار کی گئی اس رپورٹ میں تصور کیا گیا ہے کہ امریکا بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر اور جدید AI ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کے باعث عالمی سطح پر نمایاں برتری حاصل کر لیتا ہے، جبکہ یورپ سست رفتار ترقی اور سخت ضوابط کی وجہ سے پیچھے رہ جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کو تیزی سے اپنے کاروباری نظام کا حصہ بنا کر پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتی ہیں، جبکہ یورپی ادارے اس رفتار کا ساتھ دینے میں ناکام رہتے ہیں، جس سے خطے کی معاشی مسابقت اور تکنیکی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔
مطالعے میں "کمپیوٹ” یعنی وہ کمپیوٹنگ طاقت جو جدید AI ماڈلز کو چلانے کے لیے درکار ہوتی ہے، کو مستقبل کی عالمی طاقت کا اہم عنصر قرار دیا گیا ہے۔ مصنفین کے مطابق اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو آئندہ برسوں میں امریکا عالمی AI انفراسٹرکچر کا بڑا حصہ اپنے کنٹرول میں لے سکتا ہے۔
رپورٹ میں ایک فرضی منظرنامہ بھی پیش کیا گیا ہے جس میں یورپ غیر ملکی AI ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار کے باعث اپنی فیصلہ سازی اور ادارہ جاتی خودمختاری کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا کرتا ہے۔
تاہم مصنفین نے واضح کیا ہے کہ یہ رپورٹ کوئی پیش گوئی نہیں بلکہ ایک فکری مشق (Thought Experiment) ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کی درست پیش گوئی کرنا انتہائی مشکل ہے۔
رپورٹ کے شریک مصنف الیکس پیٹروپولوس کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کی رفتار محدود ہے، اس لیے یورپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنی ضروریات کے لیے کتنی AI انفراسٹرکچر صلاحیت خود تیار کرنا چاہتا ہے۔
رپورٹ میں یورپی حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کریں اور ایسے خصوصی AI زونز قائم کریں جہاں توانائی، منصوبہ بندی اور ریگولیٹری امور کو آسان بنا کر جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے ہسپانوی رکنِ یورپی پارلیمنٹ نکولس کاساریس نے کہا کہ رپورٹ میں بیان کیے گئے بعض خدشات حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں، تاہم مصنفین نے پالیسی سازوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خطرات کو کسی حد تک بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے میدان میں مسابقت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور حکومتیں AI انفراسٹرکچر، کمپیوٹنگ طاقت اور تکنیکی خودمختاری کو معاشی اور قومی سلامتی کے اہم ستونوں کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔
اگرچہ یورپ 2031 ایک فرضی منظرنامے پر مبنی دستاویز ہے، تاہم اس نے یورپی یونین میں اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ خطے کو اپنی AI صلاحیتوں میں اضافہ اور غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔
