ٹرمپ انتظامیہ نے روسی تیل کی کچھ کھیپوں پر عائد امریکی پابندیوں میں دی گئی رعایت مزید 30 دن کے لیے بڑھا دی ہے، جس کے تحت وہ روسی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات جنہیں 17 اپریل 2026 تک جہازوں پر لاد دیا گیا تھا، اب 16 مئی 2026 تک امریکی پابندیوں کی زد میں آئے بغیر منزل تک پہنچ سکتی ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب یوکرین جنگ جاری ہے اور واشنگٹن میں ناقدین انتظامیہ پر ماسکو کے لیے نرمی برتنے کا الزام لگا رہے ہیں۔
امریکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ توسیع جمعہ کو امریکی محکمۂ خزانہ کی جانب سے جاری کی گئی۔ اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ پہلے سے سمندر میں موجود روسی تیل کی مخصوص کھیپوں کی ترسیل جاری رہ سکے گی۔ یہ نئی مہلت مارچ میں دی گئی ایک سابقہ 30 روزہ رعایت کی توسیع ہے۔
اس فیصلے نے اس لیے بھی زیادہ توجہ حاصل کی کیونکہ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے صرف دو روز پہلے وائٹ ہاؤس میں کہا تھا کہ روسی اور ایرانی تیل سے متعلق جنرل لائسنس کی تجدید نہیں کی جائے گی۔ مگر اب انتظامیہ نے روسی تیل کے معاملے میں اپنی پوزیشن بدل دی۔ امریکی حکام نے فوری طور پر اس یوٹرن کی مفصل وضاحت نہیں کی۔
انتظامیہ کے حق میں دی جانے والی بنیادی دلیل یہ ہے کہ ایران سے جڑی جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی رسد پر دباؤ بڑھا، اور واشنگٹن نہیں چاہتا تھا کہ اچانک قلت پیدا ہو۔ اسی تناظر میں روسی تیل کی پہلے سے روانہ شدہ کھیپوں کو محدود مدت کے لیے استثنا دینا ایک عارضی ریلیف اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ مکمل پالیسی تبدیلی کے طور پر۔
تاہم کانگریس میں اس اقدام پر سخت اعتراض سامنے آیا ہے۔ 10 اپریل 2026 کو سینیٹر رچرڈ بلومینتھل، جین شاہین، شیلڈن وائٹ ہاؤس، کرس کونز، جیکی روزن اور مارک کیلی نے اسکاٹ بیسنٹ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ روسی تیل سے متعلق یہ رعایت ختم ہونے دی جائے اور اس میں مزید توسیع نہ کی جائے۔ ان قانون سازوں کا مؤقف تھا کہ اس طرح کی نرمی روس کو توانائی کی آمدن جاری رکھنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ وہ یوکرین میں جنگ لڑ رہا ہے۔
سینیٹرز نے اپنے خط میں یہ بھی کہا کہ اگر مقصد عالمی ایندھن کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا تھا، تو اس دعوے کے واضح ثبوت سامنے نہیں آئے۔ ان کے مطابق پابندیوں میں نرمی روس پر معاشی دباؤ کم کرتی ہے اور امریکہ کے اس بڑے مؤقف کو کمزور بناتی ہے جس کے تحت ماسکو کی جنگی صلاحیت کو محدود کرنا مقصود ہے۔
یوں یہ معاملہ صرف ایک تکنیکی لائسنس کی تجدید نہیں رہا، بلکہ امریکی خارجہ اور توانائی پالیسی کے بیچ موجود کشمکش کی علامت بن گیا ہے۔ ایک طرف انتظامیہ عالمی تیل منڈی میں جھٹکا کم کرنا چاہتی ہے، دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ ہر نئی مہلت روس کے لیے مالی سانس لینے کی گنجائش پیدا کرتی ہے۔ اب نظریں 16 مئی 2026 کی نئی آخری تاریخ پر ہوں گی، جہاں یہ واضح ہو سکتا ہے کہ یہ رعایت واقعی عارضی تھی یا وسیع تر پالیسی رجحان کا حصہ۔
