MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
کاروبار اور تجارت

سی پیک کے دوسرے مرحلے میں برآمدات پر زور، مگر پاکستان خصوصی اقتصادی زونز کے اہداف حاصل نہ کر سکا

Last updated: مئی 5, 2026 10:44 شام
Yamna Shahid
Share
سی پیک کے دوسرے مرحلے میں برآمدات پر زور، مگر پاکستان خصوصی اقتصادی زونز کے اہداف حاصل نہ کر سکا
سی پیک کے دوسرے مرحلے میں برآمدات پر زور، مگر پاکستان خصوصی اقتصادی زونز کے اہداف حاصل نہ کر سکا
SHARE

پاکستان اب خصوصی اقتصادی زونز، یعنی ایس ای زیڈز، کی کہانی نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اصل مسئلہ وہی ہے: جن زونز کو سی پیک کے تحت صنعتی تبدیلی، روزگار اور برآمدی نمو کا بڑا ذریعہ بننا تھا، ان میں سے بہت سے منصوبے مقررہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ سرکاری اور پالیسی سطح کی دستاویزات کے مطابق سی پیک فریم ورک میں ابتدا میں 9 خصوصی اقتصادی زونز کی نشاندہی کی گئی تھی، مگر عملی پیش رفت اس رفتار سے نہیں ہوئی جس کا ابتدائی دعووں میں تاثر دیا گیا تھا۔

اب حکومت اور متعلقہ اداروں کی زبان بدل چکی ہے۔ جنوری 2026 میں سرمایہ کاری بورڈ کے بریفنگ سیشن میں بتایا گیا کہ 2019 میں منظور شدہ زونز کی تعداد 7 تھی جو 2025 تک بڑھ کر 44 ہو گئی۔ اسی بریفنگ میں سی پیک فیز ٹو کو ایسی حکمتِ عملی کے طور پر پیش کیا گیا جس کا مرکز برآمدات، صنعتی پیداوار، ویلیو ایڈیشن، ٹیکنالوجی منتقلی اور چین کے ساتھ کاروبار سے کاروبار روابط ہیں۔ مطلب صاف ہے: اب زور صرف انفراسٹرکچر پر نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ ان زونز سے واقعی برآمدی معیشت کیسے بنائی جائے۔

یہ تبدیلی کسی اچانک وژن کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک طرح کی اصلاحی کوشش دکھائی دیتی ہے۔ کئی تجزیے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سی پیک کا پہلا مرحلہ زیادہ تر سڑکوں، توانائی منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے پر مرکوز رہا، جبکہ صنعتی تعاون اور برآمدی ڈھانچے کی تعمیر اس رفتار سے نہیں ہو سکی جس کی توقع تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اب فیز ٹو کو “ایکسپورٹ لیڈ” رخ دے کر پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ سی پیک کو محض تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ صنعتی اور تجارتی پلیٹ فارم بنایا جا سکے۔

مسئلہ مگر صرف پالیسی بیان کا نہیں، عملدرآمد کا ہے۔ ایس ای زیڈز کے سلسلے میں برسوں سے ایک ہی قسم کی رکاوٹیں سامنے آتی رہی ہیں: وفاق اور صوبوں کے درمیان کمزور ہم آہنگی، زمین اور بنیادی سہولیات کے مسائل، سرمایہ کاروں کی محدود دلچسپی، توانائی و لاجسٹکس کی کمزوریاں، اور مجموعی معاشی و سیاسی غیر یقینی صورتحال۔ یہی وہ وجوہ ہیں جنہوں نے ان زونز کو کاغذی ترجیحات سے نکال کر مکمل صنعتی مراکز میں بدلنے کے عمل کو سست رکھا۔

اس کے باوجود اسلام آباد اور بیجنگ دونوں بظاہر یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کو ترک نہیں کیا گیا۔ ستمبر 2025 میں پاکستان اور چین کے درمیان تقریباً 8.5 ارب ڈالر کے معاہدے اور مشترکہ منصوبے طے پائے، جنہیں سی پیک 2.0 کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ ان اعلانات میں زراعت، قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرک وہیکلز، صحت، اسٹیل اور دیگر شعبے شامل تھے، جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ اب تعاون کو زیادہ پیداوار، صنعت اور تجارت سے جوڑنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

تاہم زمینی حقیقت اب بھی آسان نہیں۔ چینی عملے اور منصوبوں کی سکیورٹی، سرمایہ کاروں کا اعتماد، بیوروکریٹک تاخیر، اور مقامی سطح پر انفراسٹرکچر کی کمزوریاں وہ عوامل ہیں جو ہر نئے دعوے کو عملی آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں چین نے متعدد مواقع پر پاکستان میں اپنے شہریوں اور منصوبوں کی سکیورٹی پر زور دیا، جو اس پورے فریم ورک کی حساسیت کو واضح کرتا ہے۔

یوں دیکھا جائے تو اصل خبر یہی ہے: پاکستان خصوصی اقتصادی زونز کے وہ اہداف حاصل نہیں کر سکا جو سی پیک کے ابتدائی وژن میں نمایاں تھے۔ اب فیز ٹو میں توجہ برآمدات، صنعتی پیداوار اور سپلائی چین سے جڑنے پر مرکوز کی جا رہی ہے۔ لیکن یہ نیا بیانیہ اسی وقت قابلِ یقین بنے گا جب زونز واقعی فعال ہوں، سرمایہ کار آئیں، پیداوار بڑھے اور برآمدات میں قابلِ پیمائش اضافہ نظر آئے۔ اس کے بغیر، خطرہ یہی ہے کہ ایس ای زیڈز ایک بار پھر اعلانوں میں آگے اور زمین پر پیچھے رہ جائیں۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article کراچی میں مسلح بینک ڈکیتی کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی کراچی میں مسلح بینک ڈکیتی کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی
Next Article ملتان میں خاتون اور تین بچے قتل، واقعہ خودکشی ظاہر کرنے کی کوشش: حکام ملتان میں خاتون اور تین بچے قتل، واقعہ خودکشی ظاہر کرنے کی کوشش: حکام
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
کراچی اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 368 پوائنٹس اضافے سے بند
کراچی اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 368 پوائنٹس اضافے سے بند
Economy تازہ ترین
ستمبر 30, 2026
کراچی میں ورلڈ میری ٹائم ڈے منایا گیا، سمندری شعبے کی اہمیت اجاگر
کراچی میں ورلڈ میری ٹائم ڈے منایا گیا، سمندری شعبے کی اہمیت اجاگر
بریکنگ نیوز
ستمبر 30, 2026
پی ٹی آئی کا 4 اکتوبر کا مارچ: ممکنہ کشیدگی پر شکوک وارننگ
بریکنگ نیوز
ستمبر 29, 2026
CTE کو زندہ افراد میں شناخت کرنا: نئی تحقیق سے امید
بلاگ
ستمبر 29, 2026
ٹرمپ حکام نرسنگ ہومز کے لیے کووڈ-19 رپورٹنگ کی لازمی شرائط ختم کر سکتے ہیں
بریکنگ نیوز
ستمبر 29, 2026
درشن راول نے نئے ای پی ’دی ایور آفٹر‘ کا اعلان کردیا، چار گانوں کی ٹریک لسٹ اور کور آرٹ بھی جاری
درشن راول نے نئے ای پی ’دی ایور آفٹر‘ کا اعلان کردیا، چار گانوں کی ٹریک لسٹ اور کور آرٹ بھی جاری
انٹرٹینمنٹ تازہ ترین
ستمبر 29, 2026

You Might Also Like

ایف بی آر کی درخواست پر اسٹیٹ بینک کا بڑا فیصلہ؛ 27 سے 30 جون تک بینکوں کے اوقاتِ کار میں رات گئے تک اضافہ
کاروبار اور تجارت

ایف بی آر کی درخواست پر اسٹیٹ بینک کا بڑا فیصلہ؛ 27 سے 30 جون تک بینکوں کے اوقاتِ کار میں رات گئے تک اضافہ

By Yamna Shahid
کے ایس ای-100 میں 2,588 پوائنٹس کی بڑی کمی، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ حاوی
کاروبار اور تجارت

کے ایس ای-100 میں 2,588 پوائنٹس کی بڑی کمی، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ حاوی

By Yamna Shahid
اسلام آباد: ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے کچھ ریلیف کی امید پیدا ہوئی ہے کیونکہ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ (CPPA-G) کی درخواست پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اپریل تا جون 2025 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ پر بجلی نرخوں میں کمی کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق یہ کمی تقریباً 1.75 سے 1.80 روپے فی یونٹ کے درمیان ہو سکتی ہے، جبکہ مجموعی صارف ریلیف کا حجم لگ بھگ 53.393 ارب روپے بتایا جا رہا ہے۔ یہ معاملہ مالی سال 2024-25 کی چوتھی سہ ماہی یعنی Q4 سے متعلق ہے۔ اسی بنیاد پر ڈسکوز کی جانب سے نیپرا سے منفی Quarterly Tariff Adjustment (QTA) مانگی گئی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس بار صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے ان کے بلوں میں کمی دی جا سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ ریلیف یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت کے-الیکٹرک صارفین تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ نیپرا میں سماعت کے دوران ریگولیٹر نے اشارہ دیا کہ بجلی نرخوں میں منفی ایڈجسٹمنٹ بنتی ہے، تاہم حتمی فیصلہ تمام جمع کرائے گئے اعدادوشمار اور متعلقہ کمپنیوں کے دعووں کی جانچ پڑتال کے بعد جاری کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ فی یونٹ کمی کے بارے میں 1.75 روپے اور 1.80 روپے، دونوں اعداد سامنے آئے ہیں؛ یعنی ریلیف کی سمت واضح ہے، مگر آخری نوٹیفکیشن ہی حتمی رقم طے کرے گا۔ بجلی کے بلوں میں کمی کا امکان، منفی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سے تقریباً 1.75 روپے فی یونٹ ریلیف متوقع
کاروبار اور تجارت

بجلی کے بلوں میں کمی کا امکان، منفی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سے تقریباً 1.75 روپے فی یونٹ ریلیف متوقع

By Yamna Shahid
توانائی کے تحفظ کے لیے اہم پیش رفت؛ وزیر اعظم شہباز شریف کا سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر بڑھانے کا حکم
کاروبار اور تجارت

توانائی کے تحفظ کے لیے اہم پیش رفت؛ وزیر اعظم شہباز شریف کا سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر بڑھانے کا حکم

By Yamna Shahid
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?