اسلام آباد، 28 اپریل — وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت رواں مالی سال میں تقریباً 4 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔ انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں ای یو۔پاکستان ہائی لیول بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے معاشی اشاریے بتدریج بہتری دکھا رہے ہیں۔
اورنگزیب کے مطابق حکومت نے گزشتہ مہینوں میں میکرو اکنامک استحکام کے میدان میں کچھ اہم پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر مارچ میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ کے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس، ترسیلاتِ زر میں بہتری، آئی ٹی برآمدات میں اضافے اور ویلیو ایڈڈ شعبوں کی بہتر کارکردگی کا ذکر کیا۔ حکومت اسی بنیاد پر یہ مؤقف پیش کر رہی ہے کہ معیشت اب محض بحران سے نکلنے کی کوشش نہیں کر رہی بلکہ بحالی کے ایک نسبتاً مضبوط مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
یہ دعویٰ صرف ایک عددی ہدف نہیں، بلکہ ایک سیاسی اور معاشی پیغام بھی ہے۔ اسلام آباد کی کوشش ہے کہ بیرونی سرمایہ کاروں اور ترقیاتی شراکت داروں کو یہ تاثر دیا جائے کہ پاکستان میں ادائیگیوں کے توازن، زرمبادلہ کے ذخائر اور مجموعی مالی نظم و ضبط کے محاذ پر کچھ استحکام آیا ہے۔ سرکاری مؤقف یہ بھی رہا ہے کہ جون کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے مساوی سطح پر رہ سکتے ہیں۔
تاہم اس خوش گمانی کے ساتھ احتیاط بھی جڑی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے لیے اپنے پروگرام کے تحت پیش رفت کو تسلیم ضرور کیا ہے، لیکن ساتھ ہی مالیاتی نظم، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، زرِ مبادلہ کی لچک اور ساختی تبدیلیوں کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ دسمبر 2025 میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاشی استحکام میں پیش رفت ہوئی ہے، مگر پائیدار نمو کے لیے اصلاحاتی رفتار برقرار رکھنا ضروری ہو گا۔
مارچ 2026 میں پاکستان کو 3.8 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں، جو حکومت کے بیانیے میں ایک اہم سہارا سمجھی جا رہی ہیں۔ لیکن یہی تصویر مکمل نہیں۔ معیشت ابھی بھی بیرونی جھٹکوں، توانائی کے بوجھ، کمزور ٹیکس وصولیوں اور عالمی مالی حالات میں تبدیلی سے متاثر ہو سکتی ہے۔ سادہ لفظوں میں، بہتری کے آثار ضرور ہیں، مگر یہ بحالی ابھی نازک ہے۔
اورنگزیب کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب حکومت پاکستان کو تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے زیادہ پرکشش معیشت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یورپی کاروباری فورم میں ان کا زور انہی اشاریوں پر تھا جو غیر ملکی سرمایہ کار عام طور پر قریب سے دیکھتے ہیں: شرح نمو، بیرونی کھاتہ، برآمدات، ترسیلاتِ زر اور ذخائر۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا مالی سال کے اختتام تک یہ بہتری اتنی مضبوط رہتی ہے کہ 4 فیصد نمو کا دعویٰ حقیقت بن سکے۔
