سعودی عرب کی وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت نے پانی کے غیر ضروری استعمال اور ضیاع کو روکنے کے لیے نئے سخت ضوابط کا نفاذ کر دیا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو اب 2 لاکھ ریال تک جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
حکومت کا یہ اقدام ملک میں پانی کی شدید قلت اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حکام کے مطابق، اب تک جاری رہنے والی آگاہی مہمات کے بعد اب قانون کا سختی سے اطلاق کیا جائے گا تاکہ پانی کی فی کس کھپت کو کم کیا جا سکے۔
نئے قوانین کا اطلاق ان افراد اور تجارتی اداروں پر ہوگا جو ٹریٹ شدہ یا عام پانی کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ انسپکٹرز اب تعمیراتی کاموں، صفائی اور آبپاشی کے غیر معیاری طریقوں پر کڑی نظر رکھیں گے۔ 2 لاکھ ریال کا بھاری جرمانہ خاص طور پر ان اداروں کے لیے ہے جو بار بار خلاف ورزی کریں گے یا بڑے پیمانے پر پانی ضائع کریں گے۔
ماہرینِ ماحولیات طویل عرصے سے خبردار کر رہے ہیں کہ سعودی عرب کا انحصار سمندری پانی کو میٹھا کرنے کے مہنگے اور توانائی طلب عمل پر ہے، جو طویل مدت میں پائیدار نہیں ہے۔ اس نئے جرمانوں کے نظام کے ذریعے حکومت اب شہریوں اور صنعتوں کو پانی کی بچت پر مجبور کرنا چاہتی ہے۔
وزارت نے شہریوں کے لیے ایک شکایت سیل بھی قائم کیا ہے، جہاں لوگ پانی کے ضیاع کی اطلاع دے سکتے ہیں۔ اس کا مقصد عوام کو بھی اس قومی ذمہ داری میں شامل کرنا ہے۔
سعودی ویژن 2030 کے اہداف کے تحت پانی کا انتظام اب صرف ایک آپریشنل مسئلہ نہیں رہا بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ بن چکا ہے۔ ریاض کا پیغام واضح ہے: پانی اب سستا اور وافر وسیلہ نہیں رہا، اور اس کے ضیاع کی قیمت اب بہت بھاری ہوگی۔
