برطانوی دوا ساز کمپنی ایسٹرا زینیکا نے پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج کے لیے تیار کی جانے والی دوا ‘وولروسٹومگ’ کی کلینیکل ٹرائلز کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے یہ فیصلہ ایک آزاد مانیٹرنگ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد کیا، جس میں یہ واضح ہوا کہ دوا مریضوں کی حالت بہتر بنانے کے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسٹرا زینیکا کے کینسر ریسرچ پروگرام کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھی جا رہی ہے۔ ‘وولروسٹومگ’ ایک بائی سپیسیفک اینٹی باڈی تھی، جسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ وہ ایک ہی وقت میں کینسر کے دو مختلف اہداف پر حملہ کر کے انسانی مدافعتی نظام کو مزید فعال بنا سکے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "اگرچہ یہ نتائج ہماری توقعات کے مطابق نہیں، لیکن یہ ڈیٹا کینسر کے علاج میں درپیش پیچیدگیوں کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔” ایسٹرا زینیکا اب اس تحقیق کو سمیٹنے اور حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے تاکہ مستقبل کی حکمت عملی بنائی جا سکے۔
یہ تجربہ ان مریضوں پر کیا جا رہا تھا جن پر کیموتھراپی اور دیگر ابتدائی علاج اثر نہیں کر رہے تھے۔ کمپنی کو امید تھی کہ یہ دوا کینسر کے علاج میں ایک نیا سنگِ میل ثابت ہوگی، لیکن کلینیکل ٹرائل کے درمیانی نتائج نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
ایسٹرا زینیکا کے لیے یہ ناکامی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سرمایہ کار کمپنی کے کینسر کے شعبے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کمپنی اپنی مشہور دوا ‘ٹیگریسو’ کے علاوہ اپنے پورٹ فولیو کو وسیع کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور وولروسٹومگ اس توسیع کا ایک اہم حصہ تھی۔
اس فیصلے کے بعد مارکیٹ میں کمپنی کے حصص کی قیمت میں معمولی کمی دیکھی گئی، جو اس بات کی عکاس ہے کہ سرمایہ کار طبی تحقیق میں ہونے والی اس طرح کی بڑی ناکامیوں پر کتنے حساس ہیں۔ اب ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کمپنی اپنی کینسر کی دیگر ادویات کے ٹرائلز کو کیسے آگے بڑھاتی ہے۔
کمپنی کی جانب سے مکمل ڈیٹا کسی آئندہ طبی کانفرنس میں پیش کیا جائے گا، لیکن فی الحال اس مخصوص دوا پر تحقیق کا باب بند کر دیا گیا ہے۔ مریضوں کے لیے یہ ایک مایوس کن صورتحال ہے، جنہیں اب کینسر کے متبادل علاج کے لیے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔
