نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز نے ملک میں دل کے امراض کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر ایک خصوصی ‘ایڈوانسڈ ہارٹ فیلیئر پروگرام’ کے قیام کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام ان مریضوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے جو دل کے آخری درجے کے امراض میں مبتلا ہیں اور جن کے لیے روایتی علاج اب کارگر ثابت نہیں ہو رہا۔
اس پروگرام کا بنیادی مقصد پیچیدہ کیسز کو عام مریضوں سے الگ کر کے انہیں جدید طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اب تک دل کے مریضوں کو صرف بائی پاس یا سٹنٹ جیسے ابتدائی مراحل تک محدود رکھا جاتا تھا، لیکن اس پروگرام کے تحت جدید فارماکولوجیکل مینجمنٹ اور کارڈیک ریسنکرونائزیشن تھراپی جیسی سہولیات سرکاری سطح پر دستیاب ہوں گی۔
اس فیصلے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ این آئی سی وی ڈی میں روزانہ آنے والے مریضوں کا رش اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ پیچیدہ کیسز پر توجہ دینا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر اور تشخیص نہ ہونے والی دل کی شریانوں کی بیماریوں نے دل کے فیل ہونے کے کیسز میں تشویشناک اضافہ کیا ہے۔ بہت سے مریض ہسپتال تب پہنچتے ہیں جب ان کے دل کی کارکردگی انتہائی خطرناک حد تک گر چکی ہوتی ہے۔
منصوبے سے وابستہ ایک سینئر کارڈیالوجسٹ کا کہنا ہے کہ "ہم ایک خاموش وبا کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہمیں صرف علامات کا علاج کرنے کے بجائے بیماری کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو روکنا ہوگا۔ یہ پروگرام ہمیں اس قابل بنائے گا کہ ہم مریض کی حالت مزید بگڑنے سے پہلے اسے سنبھال سکیں۔”
تاہم، اس پروگرام کی کامیابی کا انحصار اس کی عملی تشکیل پر ہے۔ صرف منظوری کافی نہیں؛ اس کے لیے ہائی ٹیک طبی آلات، ماہر نرسنگ اسٹاف، اور ٹرانسپلانٹ کوآرڈینیٹرز کی ایک پوری ٹیم درکار ہوگی۔ ہسپتال انتظامیہ نے ابھی تک ان آلات کی خریداری اور عملے کی بھرتی کے لیے کسی واضح ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا ہے۔
فی الحال یہ فیصلہ ایک پالیسی دستاویز کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا انتظامیہ اس پروگرام کو کاغذوں سے نکال کر ہسپتال کے وارڈز تک پہنچا پاتی ہے یا نہیں۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا این آئی سی وی ڈی ان انتہائی نگہداشت کے حامل مریضوں کو سہارا دینے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا یہ منصوبہ بھی وسائل کی کمی کا شکار ہو جائے گا۔
