سابق وزیرِاعظم عمران خان کی بہنوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی ملاقات پر عائد پابندیوں کے خلاف آواز اٹھائیں، کیونکہ حکام نے ایک بار پھر انہیں اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف سے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔
علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین خان عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم جیل حکام نے انہیں ملاقات کی اجازت نہ دی۔ خاندان کا کہنا ہے کہ یہ پابندی اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کے باوجود لگائی گئی جس کے تحت عمران خان کو ہفتے میں دو بار، منگل اور جمعرات کو، اہلِ خانہ، وکلا اور دیگر افراد سے ملاقات کی اجازت ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ خاندان کو بار بار عمران خان سے ملاقات سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے شہریوں اور پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ان پابندیوں کے خلاف آواز بلند کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کوئی غیر قانونی مطالبہ نہیں کر رہا، بلکہ صرف عدالتی احکامات کے مطابق ملاقات کا حق مانگ رہا ہے۔
عمران خان کی بہنیں اس سے قبل بھی ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کر چکی ہیں۔ دسمبر میں بھی ایسی ہی صورتحال سامنے آئی تھی، جب اہلِ خانہ اور پی ٹی آئی رہنماؤں نے ملاقات نہ ہونے پر جیل کے قریب دھرنا دیا تھا۔
عمران خان اگست 2023 سے مختلف مقدمات کے سلسلے میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کی جماعت اور خاندان کی جانب سے ملاقاتوں پر پابندیوں کے حوالے سے مسلسل تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، جبکہ حکام جیل کے اطراف سخت سیکیورٹی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
تازہ ترین پابندی کے بعد سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے، کیونکہ عمران خان کا خاندان عدالتی احکامات کے مطابق باقاعدہ ملاقاتوں کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
