کولکاتا، 23 اپریل — بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ جمعرات کو کشیدہ ماحول میں شروع ہوئی، جہاں مختلف علاقوں سے حریف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں، ہنگامہ آرائی اور ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے کے الزامات سامنے آئے۔ مرشد آباد ضلع خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا، جہاں حکمراں ترنمول کانگریس اور عوامی جماعتوں سے وابستہ کارکنوں کے درمیان تصادم کی اطلاعات ملیں۔
مقامی رپورٹس کے مطابق نوادہ اسمبلی حلقے کے قریب پولنگ سے ایک رات پہلے بھی کشیدگی دیکھی گئی تھی۔ شب نگر کے علاقے میں دیسی بم پھینکے جانے کی اطلاع ملی، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک خاتون زخمی ہوئی اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولنگ کے روز جب مقامی سیاسی رہنما ہمایوں کبیر وہاں پہنچے تو ان کے حامیوں اور مخالف گروپوں کے درمیان تلخ نعرے بازی ہوئی، پھر معاملہ ہاتھاپائی اور ہنگامے تک جا پہنچا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے مداخلت کر کے حالات قابو میں لانے کی کوشش کی۔
یہ جھڑپیں ایک بڑے سیاسی مقابلے کے پس منظر میں ہو رہی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی ایک بار پھر مغربی بنگال میں اپنی سیاسی جگہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس اپنی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے میدان میں ہے۔ اس بار انتخابی مقابلہ صرف ریاستی اقتدار تک محدود نہیں سمجھا جا رہا، بلکہ اسے قومی سیاست میں بھی اہم اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔
دن بھر مختلف مقامات سے مزید بدامنی کی خبریں بھی آئیں۔ بعض بھارتی میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا کہ کچھ مقامات پر امیدواروں کے قافلوں پر حملے ہوئے، گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی گئی، اور بعض بوتھوں پر مبینہ طور پر پراکسی ووٹنگ کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ہر جگہ فوری طور پر نہیں ہو سکی، لیکن مجموعی منظرنامہ یہی رہا کہ ووٹنگ کے ساتھ ساتھ سیاسی کشمکش بھی پوری شدت سے جاری رہی۔
الیکشن کمیشن نے اس مرحلے کے لیے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے تھے۔ سرکاری انتخابی شیڈول کے مطابق 294 نشستوں پر مشتمل مغربی بنگال اسمبلی کے انتخابات دو مرحلوں میں ہو رہے ہیں۔ پہلا مرحلہ 23 اپریل کو ہوا، جبکہ دوسرا مرحلہ اگلے ہفتے رکھا گیا ہے اور نتائج 4 مئی کو متوقع ہیں۔ الیکشن کمیشن نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی رینڈمائزیشن سمیت دیگر انتظامی تیاریوں کو بھی مکمل قرار دیا تھا۔
اس انتخاب پر ایک اور بڑا سایہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا بھی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق حالیہ نظرثانی کے دوران مغربی بنگال میں تقریباً 90 لاکھ نام ووٹر فہرستوں سے نکالے گئے، جو ریاست کے کل ووٹروں کا لگ بھگ 12 فیصد بنتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ یہ عمل جعلی، دہرے یا نااہل اندراجات ختم کرنے کے لیے کیا گیا، مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے کئی حقیقی ووٹر بھی متاثر ہوئے، خصوصاً اقلیتی اور پسماندہ طبقے۔ یہی وجہ ہے کہ پولنگ کے دن سامنے آنے والی ہر جھڑپ اور ہر شکایت کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔
اس سب کے باوجود ووٹرز کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچی۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دوپہر بعد تک ووٹنگ کی شرح خاصی بلند رہی، جس سے ظاہر ہوا کہ کشیدہ ماحول اور پرتشدد واقعات کی خبروں کے باوجود ووٹر عمل سے پیچھے نہیں ہٹے۔ مغربی بنگال کی سیاست میں یہ منظر نیا نہیں: کشیدگی بھی رہتی ہے، اور عوامی شرکت بھی۔
آنے والے دنوں میں اصل سوال یہ ہوگا کہ آیا یہ پرتشدد واقعات چند مقامی جھڑپوں تک محدود رہتے ہیں یا پورے انتخابی عمل کی شفافیت اور ساکھ پر بڑا سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ ابھی کے لیے اتنا واضح ہے کہ مغربی بنگال میں پولنگ صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں، بلکہ طاقت، اثر و رسوخ اور سیاسی بقا کی ایک سخت جنگ بھی ہے۔
