وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ معرکۂ حق کی پہلی برسی کے موقع پر قوم اور خطے دونوں کے لیے ایک سخت اور واضح پیغام دیا کہ پاکستان کو نہ تو “مرعوب” کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی “دبایا” جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کسی بھی جارحیت کا جواب “فوری، بھرپور اور مکمل قوت” کے ساتھ دیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ملک مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ ہونے والی چار روزہ شدید کشیدگی کی پہلی برسی منا رہا ہے۔
اپنے پیغام میں وزیراعظم نے معرکۂ حق کو ایک ایسا واقعہ قرار دیا جو “تاریخ میں نقش” ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس موقع کو محض ایک فوجی ردِعمل نہیں بلکہ قومی عزم، دفاعی صلاحیت اور سیاسی خود اعتمادی کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ سرکاری اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہباز شریف نے بری، بحری، فضائی اور سائبر محاذوں پر مسلح افواج کی مربوط کارروائی کو سراہا اور کہا کہ پاکستان نے دشمن کے سامنے اپنی تیاری اور عزم دونوں ثابت کیے۔
یومِ معرکۂ حق کی علامتی اہمیت بھی کم نہیں۔ حکومتِ پاکستان نے مئی 2025 کے تصادم کے بعد 10 مئی کو باضابطہ طور پر اس دن سے منسوب کیا اور اسے آپریشن بنیانٌ مرصوص کے تناظر میں قومی یادگار دن کے طور پر پیش کیا۔ اس سال کی تقریبات میں بھی یہی بیانیہ نمایاں رہا: خودمختاری، دفاعی تیاری اور قومی یکجہتی۔
اس پس منظر کو سمجھے بغیر موجودہ بیان کی شدت پوری طرح واضح نہیں ہوتی۔ 2025 کا بحران اُس وقت شروع ہوا جب مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر ہندو سیاح تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان سے منسلک شدت پسندوں پر عائد کیا، جبکہ اسلام آباد نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد چند ہی دنوں میں میزائل حملوں، ڈرون سرگرمیوں اور سرحدی گولہ باری نے صورتِ حال کو ایک خطرناک تصادم میں بدل دیا، جو بالآخر 10 مئی 2025 کو جنگ بندی پر ختم ہوا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس واقعے کی تشریح آج بھی دونوں ممالک میں بالکل مختلف انداز سے کی جا رہی ہے۔ پاکستان اسے “معرکۂ حق” کے طور پر یاد کر رہا ہے، یعنی ایک ایسا مرحلہ جہاں اس نے دفاعی اور نفسیاتی سطح پر برتری دکھائی۔ دوسری طرف بھارت اپنے سرکاری مؤقف میں اب بھی اسے دہشت گردی کے خلاف ردِعمل اور اپنی عسکری حکمتِ عملی کے تسلسل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یوں ایک ہی واقعہ، دو الگ قومی بیانیوں میں زندہ ہے۔
پاکستان میں اس برس کی تقاریب میں صرف وزیراعظم ہی نہیں، دیگر اعلیٰ شخصیات نے بھی اسی لہجے کو آگے بڑھایا۔ صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان خطے میں توازن اور استحکام کی علامت بن کر ابھرا ہے، جبکہ مختلف سرکاری بیانات اور عوامی تقریبات میں افواجِ پاکستان کے کردار، قومی اتحاد اور دفاعی تیاری کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا۔
مگر تقریبات اور نعروں سے ہٹ کر حقیقت یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی کی بنیادی وجوہات اب بھی موجود ہیں۔ کشمیر کا تنازع، سرحد پار دہشت گردی کے الزامات، سفارتی بداعتمادی اور جنگی بیانیوں کی سیاست — یہ سب اب بھی فضا پر حاوی ہیں۔ جنگ بندی اپنی جگہ قائم ہے، لیکن اعتماد کی بحالی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف کا یہ بیان محض یادگاری خطاب نہیں تھا؛ یہ ایک سیاسی اعلان بھی تھا، ایک سفارتی اشارہ بھی، اور ایک عسکری تنبیہ بھی۔
