ایندھن کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی مانگ میں تیزی پیدا کر دی ہے، لیکن امریکی مارکیٹ اس رجحان سے لاتعلق دکھائی دیتی ہے۔ جہاں یورپ اور چین میں پیٹرول کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باعث صارفین تیزی سے الیکٹرک گاڑیوں کا رخ کر رہے ہیں، وہیں امریکہ میں یہ منتقلی سست روی کا شکار ہے۔
یورپ میں حساب کتاب بالکل واضح ہے۔ وہاں ایندھن کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر ہیں، جس کے باعث الیکٹرک گاڑی کو چارج کرنا روایتی گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستا پڑتا ہے۔ چین میں سرکاری مراعات اور چارجنگ نیٹ ورک کے وسیع جال نے الیکٹرک گاڑیوں کو عام متوسط طبقے کے لیے پہلی پسند بنا دیا ہے۔
امریکہ کی کہانی مختلف ہے۔ یہاں پیٹرول کی قیمتیں اکثر 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچ جاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں وہ تیزی نظر نہیں آتی۔ اس کی بڑی وجہ بنیادی ڈھانچے کا فقدان ہے۔ ناروے جیسے ممالک میں چند میل کے فاصلے پر تیز رفتار چارجنگ اسٹیشن دستیاب ہیں، جبکہ امریکہ کے دیہی علاقوں میں ایک فعال چارجر تلاش کرنا بھی کسی چیلنج سے کم نہیں۔
دوسری بڑی رکاوٹ گاڑیوں کی اقسام ہیں۔ امریکی صارفین بڑی ایس یو ویز (SUVs) اور ٹرکوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ الیکٹرک گاڑی بنانے والی کمپنیاں ابھی تک ایسی بڑی گاڑیاں مناسب قیمت پر متعارف کروانے میں جدوجہد کر رہی ہیں۔ جب تک گاڑیاں سستی اور کارآمد نہیں ہوں گی، صارفین چھوٹی سیڈان گاڑیوں پر منتقل ہونے کے بجائے پیٹرول پمپ پر زیادہ رقم خرچ کرنا زیادہ آسان سمجھتے ہیں۔
سیاسی عوامل بھی اس منتقلی میں رکاوٹ ہیں۔ امریکہ میں الیکٹرک گاڑی کا معاملہ ایک ثقافتی اور سیاسی بحث بن چکا ہے۔ وفاقی ٹیکس کریڈٹس اور پالیسیوں میں بار بار تبدیلی خریداروں میں عدم تحفظ پیدا کرتی ہے۔ جب کوئی شخص دس سال کے لیے گاڑی خریدتا ہے، تو اسے مستقل مزاجی درکار ہوتی ہے، جو فی الحال نظر نہیں آتی۔
آٹو انڈسٹری کی تجزیہ کار سارہ جینکنز کا کہنا ہے کہ "صارفین ٹیکنالوجی کو مسترد نہیں کر رہے، بلکہ وہ اس سے جڑی مشکلات سے تنگ ہیں۔ جب تک چارجنگ کا عمل پیٹرول پمپ کی طرح آسان نہیں ہوگا، ایندھن کی قیمتیں امریکی خریداروں کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہو پائیں گی۔”
فی الحال امریکہ اس دوڑ میں ایک الگ تھلگ مقام پر کھڑا ہے۔ دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑی کو توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے بچاؤ کا ذریعہ سمجھا جا رہا ہے، جبکہ امریکی صارفین اب بھی پیٹرول پمپ پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں—صرف اس لیے کہ ان کے پاس متبادل کا انتخاب محدود ہے۔
