متحدہ عرب امارات سے متعدد پاکستانی کارکنوں کو بے دخل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ اس پیش رفت کو پاکستان کی علاقائی امن کوششوں سے پیدا ہونے والی سفارتی کشیدگی سے جوڑا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستانی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں امارات چھوڑنے کا کہا گیا، جب کہ اسلام آباد اور ابوظہبی کے تعلقات پاکستان کی امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے باعث دباؤ کا شکار ہوئے۔ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بڑی تعداد میں پاکستانی شہریوں، جن میں کئی شیعہ مسلمان بھی شامل ہیں، کو باضابطہ الزامات کے بغیر حراست میں لیا گیا یا ملک بدر کیا گیا۔
اس معاملے نے بیرونِ ملک پاکستانی برادری میں تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ متحدہ عرب امارات پاکستانی کارکنوں کے لیے اہم ترین ممالک میں شامل ہے۔ وہاں سے بھیجی جانے والی رقوم پاکستان میں لاکھوں خاندانوں کے لیے مالی سہارا بنتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بعض متاثرہ کارکنوں نے اچانک بے دخلی، جمع پونجی تک رسائی میں رکاوٹ اور حکام کی جانب سے واضح وجہ نہ بتائے جانے کی شکایت کی۔ تاہم پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے ان اطلاعات کے مکمل پیمانے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ علاقائی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
