یہ خیال محض نظریاتی بات نہیں رہا۔ 26 فروری 2026 کو سان ڈیاگو کاؤنٹی واٹر اتھارٹی نے ایک مفاہمتی یادداشت کی منظوری دی، جس کا مقصد بین الریاستی پانی کی منتقلی اور تبادلے کے پائلٹ پروگرام کو کھوجنا ہے۔ اس عمل میں یو ایس بیورو آف ریکلیمیشن، میٹروپولیٹن واٹر ڈسٹرکٹ آف سدرن کیلیفورنیا اور خطے کے دیگر شراکت دار شامل ہیں۔ بنیادی مقصد یہ ہے کہ قانونی اور پالیسی فریم ورک بنایا جائے تاکہ مستقبل میں دوسرے دریائی حوضے کے شراکت دار سان ڈیاگو کے ڈیسالینیٹڈ پانی کے ماڈل سے فائدہ اٹھا سکیں۔
سان ڈیاگو اس پوزیشن میں کیوں ہے؟ وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنے پانی کے ذرائع کو وقت کے ساتھ زیادہ متنوع بنایا ہے۔ کارلزبیڈ ڈیسالینیشن پلانٹ روزانہ تقریباً 50 ملین گیلن پینے کے قابل پانی پیدا کرتا ہے اور سان ڈیاگو خطے کی ضروریات کا لگ بھگ 10 فیصد پورا کرتا ہے۔ اسی اضافی لچک نے سان ڈیاگو کو ان مغربی علاقوں کے مقابلے میں نسبتاً بہتر حالت میں رکھا ہے جو اب بھی زیادہ تر کولوراڈو ریور پر انحصار کرتے ہیں۔
یہ پس منظر اس لیے اہم ہے کیونکہ کولوراڈو ریور بحران ابھی ختم نہیں ہوا۔ یہ دریا تقریباً 4 کروڑ افراد کے لیے اہم آبی ذریعہ ہے، اور 2026 میں بھی ایریزونا، نیواڈا اور میکسیکو کو کم پانی مل رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایریزونا کی فراہمی میں 18 فیصد، نیواڈا کی میں 7 فیصد، اور میکسیکو کی میں 5 فیصد کمی برقرار ہے، جبکہ ریاستیں 2027 کے بعد کے قواعد پر اب تک مکمل اتفاق نہیں کر سکیں۔
اسی لیے بحرالکاہل کے پانی کا تصور پرکشش لگتا ہے۔ سادہ لفظوں میں، اگر ساحلی علاقے سمندر کے پانی کو صاف کر کے زیادہ استعمال کریں، تو دریائی پانی اندرونِ ملک کے لیے بچایا جا سکتا ہے۔ یہ براہِ راست “سمندر سے دریا” منصوبہ نہیں، بلکہ “سمندر ساحل کے لیے، دریا اندرونِ ملک کے لیے” والی منطق ہے۔ یعنی مسئلہ نئے پانی کا کم اور موجودہ پانی کی نئی ترتیب کا زیادہ ہے۔
لیکن اس خیال کو کسی جادوئی حل کے طور پر دیکھنا غلط ہوگا۔ ڈیسالینیشن مہنگی بھی ہے، زیادہ توانائی بھی مانگتی ہے، اور ماحولیاتی اعتراضات بھی اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ کیلیفورنیا کے واٹر بورڈز کے مطابق کارلزبیڈ پلانٹ کے عمل سے انتہائی نمکیاتی برائن ویسٹ پیدا ہوتی ہے، جبکہ سمندری پانی کے بڑے پیمانے پر intake کے باعث بحری ماحول پر بھی اثرات کے خدشات رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حامی بھی اسے مکمل حل نہیں بلکہ کئی اوزاروں میں سے ایک اوزار قرار دیتے ہیں۔
اس کے ساتھ ایک قانونی اور سیاسی رکاوٹ بھی ہے۔ کولوراڈو ریور کا پانی صرف انجینئرنگ کا مسئلہ نہیں بلکہ water rights, ریاستی معاہدوں، وفاقی منظوریوں اور پرانے آبی تنازعات کا مجموعہ ہے۔ اسی لیے سان ڈیاگو کا حالیہ معاہدہ فوری پانی بیچنے کا عملی سودا نہیں بلکہ صرف ایک exploratory framework ہے۔ مقامی رپورٹنگ میں بھی نشاندہی کی گئی کہ فی الحال یہ زیادہ تر اس بات کی کھوج ہے کہ ایسی منتقلیاں قانونی طور پر کیسے ممکن ہو سکتی ہیں۔
تو اس خبر کو سب سے بہتر طریقے سے یوں سمجھا جا سکتا ہے: بحرالکاہل کا پانی کولوراڈو ریور بحران کو ختم نہیں کرے گا، مگر اسے کچھ وقت اور کچھ گنجائش ضرور دے سکتا ہے۔ اگر ڈیسالینیشن ساحلی شہروں کو سہارا دیتی ہے، تو دریا کا محدود پانی نسبتاً زیادہ اہم اور خشک علاقوں کے لیے بچایا جا سکتا ہے۔ یہ مکمل نجات نہیں، مگر ایسے basin میں جہاں آسان حل تقریباً ختم ہو چکے ہیں، یہ ایک قابلِ غور راستہ ضرور ہے۔