حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے اعلان کیا ہے کہ تنظیم کا وسیع اسلحہ کسی بھی صورت میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گا، جس سے گروہ نے اپنی عسکری صلاحیتوں کے حوالے سے ایک واضح “ریڈ لائن” کھینچ دی ہے۔ یہ بیان ایک ٹیلی ویژن خطاب میں دیا گیا، جو اس وقت سامنے آیا ہے جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان متنازع زمینی اور سمندری سرحدوں پر بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔
نصراللہ کے اس بیان نے حزب اللہ کے دیرینہ مؤقف کو مزید واضح کر دیا ہے کہ اس کے ہتھیار صرف لبنان کے دفاع کے لیے ہیں۔ اس موقف کے باعث خطے میں دیرپا استحکام کے لیے کسی بھی سفارتی کوشش کو مزید پیچیدگی کا سامنا ہو سکتا ہے، جہاں لبنان-اسرائیل سرحد پر جھڑپیں عام ہیں۔ حزب اللہ کی عسکری طاقت لبنان کی سیاست میں اس کے اثر و رسوخ اور ایران کی حمایت یافتہ “محورِ مزاحمت” میں اس کے کردار کا اہم حصہ ہے۔
نصراللہ نے کہا،
“ہمارے ہتھیار بحث یا مذاکرات کا موضوع نہیں ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک اصولی اور واضح سرخ لکیر ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ سرحدی حد بندی کے مذاکرات، جو امریکہ کی ثالثی میں جاری ہیں، صرف زمینی اور بحری سرحدوں تک محدود ہیں، حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں تک نہیں۔
حزب اللہ، جو ایک طاقتور شیعہ سیاسی جماعت اور عسکری تنظیم ہے، لبنان کی فوج کے برابر ایک مضبوط فوجی طاقت رکھتی ہے۔ یہ 1980 کی دہائی سے لبنان کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے اور اسرائیل کے ساتھ متعدد جنگیں لڑ چکی ہے، جن میں سب سے بڑی 2006 کی ایک ماہ طویل جنگ تھی۔ اس جنگ کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 منظور کی گئی، جس میں تمام مسلح گروہوں کے غیر مسلح ہونے اور دشمنی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اسرائیل حزب اللہ کے ہتھیاروں کو براہِ راست اور سنگین خطرہ سمجھتا ہے اور اکثر اس گروہ کے ایران سے مبینہ طور پر حاصل کردہ جدید راکٹوں اور میزائلوں پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ امن یا تعلقات کی بہتری کے لیے حزب اللہ کا غیر مسلح ہونا ضروری ہے۔ تاہم نصراللہ کے حالیہ بیان نے اس امکان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جس سے خطے میں سیکیورٹی تنازع مزید گہرا ہو گیا ہے۔
