یورپی سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول (ECDC) نے تصدیق کی ہے کہ انڈیز ہنٹا وائرس میں ایسی کوئی جینیاتی تبدیلی نہیں دیکھی گئی جس سے یہ انسان سے انسان میں منتقل ہو سکے۔ ایجنسی نے یہ رپورٹ اس خدشے کے بعد جاری کی ہے کہ آیا یہ وائرس اپنی نوعیت بدل کر زیادہ خطرناک تو نہیں ہو رہا۔
جنوبی امریکہ میں پایا جانے والا یہ وائرس بنیادی طور پر متاثرہ چوہوں کے فضلے اور لعاب کے ذریعے انسانوں تک پہنچتا ہے۔ اس سے ہونے والی ہنٹا وائرس پلمونری سنڈروم (HPS) نامی بیماری انتہائی مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، ای سی ڈی سی کی تازہ ترین تکنیکی رپورٹ نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے کہ وائرس انسانوں کے درمیان تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت پیدا کر رہا ہے۔
ایجنسی نے اپنے اعلامیے میں واضح کیا، "موجودہ ڈیٹا ثابت کرتا ہے کہ وائرس کے پھیلنے کا طریقہ کار تاریخی پیٹرن کے مطابق ہی ہے۔” رپورٹ کے مطابق، متاثرہ علاقوں میں سامنے آنے والے کیسز وائرس کے رویے میں کسی تبدیلی یا اس کے ماحولیاتی استحکام میں فرق کو ظاہر نہیں کرتے۔
انڈیز وائرس اب بھی ایک مقامی خطرہ ہے، جو زیادہ تر ارجنٹائن اور چلی کے مخصوص علاقوں تک محدود ہے۔ دیگر وائرسز کے برعکس جو اپنی ساخت بدل کر عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنتے ہیں، یہ وائرس مکمل طور پر آلودہ ماحول اور براہِ راست رابطے پر انحصار کرتا ہے۔
صحت عامہ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس وائرس سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ ماحولیاتی نظم و ضبط ہے۔ چوہوں کی آبادی کو انسانی بستیوں سے دور رکھنا اور دیہی علاقوں میں صفائی ستھرائی کو یقینی بنانا ہی انفیکشن کو روکنے کا واحد راستہ ہے۔
ای سی ڈی سی کے ان نتائج کے باوجود، متاثرہ علاقوں میں طبی ٹیمیں مریضوں کی کڑی نگرانی کر رہی ہیں۔ ڈاکٹروں کی توجہ بروقت تشخیص پر مرکوز ہے، کیونکہ HPS کا علاج انتہائی ابتدائی مرحلے پر ہی ممکن ہے۔ فی الحال، یہ وائرس اپنی روایتی حدود کے اندر ہی ہے، اور اس میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی جو کسی بڑے عالمی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو۔
