پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے 17 اپریل 2026 کو انتالیہ ڈپلومیسی فورم میں جنوبی ایشیا کے اندر مضبوط علاقائی تجارت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطہ اپنی معاشی صلاحیت کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا رہا۔ انہوں نے یہ بات ایک سیشن میں کہی جس کا موضوع “Trust-Based Trade: The Future of Economic Integration and Stability in South Asia” تھا۔ فورم 17 سے 19 اپریل 2026 تک ترکیہ کے شہر انتالیہ میں منعقد ہو رہا ہے۔
ڈار کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ جنوبی ایشیا میں تجارت اور معاشی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے صرف منڈیاں اور آبادی کافی نہیں ہوتیں، اعتماد بھی ضروری ہے۔ اناطولو ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کی مجموعی معیشت تقریباً 4 کھرب ڈالر کے قریب ہے، مگر خطے کے اندر باہمی تجارت صرف تقریباً 5 فیصد کے آس پاس ہے۔ ان کے مطابق یہی فرق بتاتا ہے کہ سیاسی بداعتمادی اور رابطوں کی کمی نے معاشی امکانات کو روک رکھا ہے۔
اسحاق ڈار نے سیشن میں واضح الفاظ میں کہا کہ “اعتماد کے بغیر رابطہ کاری نہیں ہو سکتی، اور رابطہ کاری کے بغیر مسائل حل نہیں ہو سکتے۔” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی کو “جڑ سے” ختم کرنا ہوگا، کیونکہ عدمِ تحفظ کی فضا میں نہ تجارت پھلتی ہے اور نہ علاقائی استحکام پیدا ہوتا ہے۔ ان کا اشارہ یہ تھا کہ معیشت، سلامتی اور سفارت کاری الگ الگ خانے نہیں ہیں؛ ایک میں رکاوٹ آئے تو باقی سب کچھ بھی سست پڑ جاتا ہے۔
انہوں نے سارک کی غیر فعالیت کو بھی خطے کی کمزور تجارتی صورتحال کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔ ڈار کے مطابق اگر جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم اپنی اصل روح کے مطابق کام کرتی رہتی تو آج خطے میں معاشی انضمام کی تصویر مختلف ہوتی۔ اسی تناظر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اب متبادل یا سہ فریقی انتظامات پر بھی غور کر رہا ہے، جن میں چین اور بنگلہ دیش یا چین اور افغانستان جیسے فریم ورک شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ انتالیہ میں ڈار نے کسی نئی بڑی تجارتی ڈیل کا اعلان نہیں کیا۔ البتہ ان کے بیان سے یہ تاثر ضرور ملا کہ پاکستان اب روایتی علاقائی فورمز کے تعطل کا انتظار کرنے کے بجائے چھوٹے، لچکدار اور عملی تعاون کے ماڈلز کی طرف دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بھارت کو سارک کے تعطل میں رکاوٹ قرار دیا، اگرچہ ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ “الزام تراشی” کے لیے وہاں موجود نہیں تھے۔
فورم کے موقع پر اسحاق ڈار کی سفارتی مصروفیات بھی قابلِ ذکر رہیں۔ اناطولو کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ خلیل الرحمان سے ملاقات کی، جسے بنگلہ دیش میں نئی حکومت بننے کے بعد دونوں رہنماؤں کی پہلی بالمشافہ ملاقات قرار دیا گیا۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پاکستان اپنے علاقائی روابط کو صرف تقاریر تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ انہیں عملی سفارتی روابط میں بھی بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو انتالیہ میں اسحاق ڈار کا پیغام دو ٹوک تھا: جنوبی ایشیا کے پاس آبادی بھی ہے، منڈی بھی، جغرافیہ بھی، لیکن باہمی اعتماد کے بغیر تجارت کا دروازہ پوری طرح نہیں کھل سکتا۔ پاکستان کی طرف سے یہ بھی اشارہ دیا گیا کہ اگر پرانے علاقائی راستے بند رہتے ہیں تو اسلام آباد دوسرے راستے تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔
