بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی صحت مزید خراب ہو رہی ہے اور خاندان کو ان کی طبی حالت پر شدید تشویش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیل میں فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں، خاص طور پر آنکھ کے علاج، کے بارے میں اب بھی کئی سوالات موجود ہیں اور خاندان مطمئن نہیں۔ وہ اس سے پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو خاندان کے تجویز کردہ ڈاکٹروں تک مکمل رسائی دی جانی چاہیے۔
تاہم اسی معاملے پر سامنے آنے والی سرکاری اور طبی معلومات نسبتاً مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ تازہ طبی اپڈیٹ کے مطابق ۲۸ اپریل ۲۰۲۶ کو بانی پی ٹی آئی کو آنکھ کے فالو اَپ علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں آنکھ کا چوتھا انجیکشن دیا گیا۔ طبی بیان میں کہا گیا کہ طریقۂ علاج سے پہلے ماہرینِ چشم نے معائنہ کیا، انہیں کلینیکی طور پر مستحکم قرار دیا گیا، اور ٹیسٹ میں بہتری کے آثار بھی سامنے آئے۔ بعد ازاں انہیں اسی روز واپس بھیج دیا گیا۔
یہی فرق اس خبر کا اصل نکتہ ہے۔ ایک طرف خاندان اور جماعت کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ طبی صورتِ حال تشویش ناک ہے اور علاج کے انتظامات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف دستیاب طبی ریکارڈ یہ بتا رہا ہے کہ علاج جاری ہے، طریقۂ کار مکمل ہوا، اور فوری طبی حالت مستحکم رہی۔
یہ معاملہ صرف ایک طبی اپڈیٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک سیاسی اور قانونی بحث بھی بن چکا ہے۔ اس سے پہلے بھی بانی پی ٹی آئی کی بینائی، طبی معائنے میں تاخیر، جیل میں علاج کے انتظامات، اور ذاتی معالجین تک رسائی کے سوالات بار بار اٹھتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی ایک آنکھ کی بینائی سے متعلق تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ سرکاری مؤقف یہ رہا کہ علاج کے بعد حالت میں بہتری آئی ہے۔
اس وقت جو بات تصدیق شدہ طور پر سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی زیرِ حراست ہیں، ان کا آنکھ کا علاج جاری ہے، اور ۲۸ اپریل کو انہیں ایک اور طے شدہ طبی طریقۂ علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ البتہ یہ سوال اب بھی متنازع ہے کہ آیا موجودہ علاج کافی، بروقت اور خاندان کے لیے قابلِ اعتماد ہے یا نہیں۔
یوں اس معاملے میں دو متوازی بیانیے ایک ساتھ چل رہے ہیں۔ ایک بیانیہ یہ ہے کہ ان کی صحت گر رہی ہے اور فوری، زیادہ شفاف طبی مداخلت کی ضرورت ہے۔ دوسرا بیانیہ یہ ہے کہ علاج باقاعدگی سے ہو رہا ہے اور طبی بہتری بھی دیکھی گئی ہے۔ جب تک کوئی ایسی طبی رپورٹ سامنے نہیں آتی جسے تمام فریق قابلِ قبول مانیں، بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق بحث سیاسی تنازعے کے ساتھ ساتھ جاری رہنے کا امکان ہے۔
حالیہ طبی اپڈیٹس، علیمہ خان کے بیانات، اور اس معاملے سے متعلق دستیاب عدالتی و طبی رپورٹنگ۔
