کراچی — شہرِ قائد میں گیس کی طویل بندش اور کم پریشر کے باعث شہریوں نے کھانا پکانے کے لیے ایک انتہائی خطرناک طریقہ اپنا لیا ہے، جس کے تحت گیس کو پلاسٹک کے تھیلوں میں بھر کر گھروں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ لیاری، اورنگی ٹاؤن اور بلدیہ جیسے گنجان آباد علاقوں میں گیس کی سپلائی لائنوں سے ربڑ کی نلکیاں جوڑ کر گیس کو بڑے پلاسٹک کے تھیلوں میں بھرا جاتا ہے۔ یہ تھیلے جب گیس سے پھول جاتے ہیں تو انہیں گھروں کے اندر لے جا کر چولہوں سے منسلک کر دیا جاتا ہے۔ یہ عمل کسی بھی وقت ایک بڑے دھماکے کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ معمولی سی چنگاری یا تھیلے کا پھٹنا رہائشی عمارتوں میں تباہی پھیلا سکتا ہے۔ ویسٹ کراچی کے رہائشی محمد علی نے صورتحال کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ "ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ دن بھر گیس غائب رہتی ہے، اگر رات کو جب تھوڑی بہت گیس آتی ہے تو اسے تھیلوں میں محفوظ نہ کریں تو گھر میں چولہا جلانا ناممکن ہے۔” سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے حکام اس صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں، لیکن ان کی جانب سے کارروائیاں محض رسمی ثابت ہوئی ہیں۔ کمپنی کا موقف ہے کہ سسٹم میں گیس کا کم پریشر اور جگہ جگہ غیر قانونی کنکشنز ہی اس بحران کی بنیادی وجہ ہیں۔ حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ تھیلوں میں گیس بھرنے کا عمل نہ صرف جان لیوا ہے بلکہ اس سے گیس کا ضیاع بھی بڑھ رہا ہے، جس سے پہلے سے کمزور نیٹ ورک مزید متاثر ہو رہا ہے۔ شہر کے سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی وارڈز میں آئے روز ایسے مریض لائے جاتے ہیں جو گھریلو سطح پر گیس کے اخراج یا دھماکوں کے نتیجے میں جھلس چکے ہوتے ہیں۔ ماہرینِ توانائی کے مطابق، کراچی کا انفراسٹرکچر شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے، اور حکومتی سطح پر ایل این جی درآمد یا پائپ لائنز کی بہتری کے دعوے تاحال گلی محلوں کی سطح تک نہیں پہنچ سکے۔ فی الحال، کراچی کے غریب علاقوں میں پلاسٹک کے تھیلوں سے گیس کے اخراج کی سنسناہٹ اور کچن میں پھیلی گیس کی بو ایک معمول بن چکی ہے۔ یہ ایک ایسا خوفناک سودا ہے جہاں لوگ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جان کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔
